<Previous>
Religious History of Kohsar
(Circle Bakote & Murree Hills)
***********************************
محمد عبیداللہ علوی
صحافی، انتھروپالوجسٹ، مورخ اور بلاگر
***********************************
کوہسار میں اسلام کی آمد ۔۔۔۔
کیٹھوال،اسلام قبول کرنے والا پہلا قبیلہ
کیٹھوال،اسلام قبول کرنے والا پہلا قبیلہ
پوٹھہ شریف میں پہلی مسجد کا قیام، نماز عشا میں پہلی تراویح
********************
کوہسار میں یوں تو تاریخ قبل از اسلام میں بھی روزے رکھے جاتے تھے اور انہیں کیٹھوال ۔۔۔۔ بھرت ۔۔۔۔ کہتے تھے اور ان کا موسم بیساکھ کا مہینہ ہوا کرتا تھا، موشپوری پر موجود شیو مندر میں جا کر اس بھرت کا آغاز کیا جاتا جس میں صرف پکے ہوئے اناج سے پرہیز کی جاتی اور پھلوں سمیت پانی اور دیگر اناج کھایا جا سکتا تھا ۔۔۔۔ یہ رسومات ہزاروں سالوں سے ادا کی جا رہی تھیں اور یہ آرین قبائل کی ہندوستان آمد کے بعد کی یاد گار تھیں ۔حضرت میر سید علی ہمدانیؒ ایک ایرانی صوفی بزرگ تھے جو سلسلہ کبرویہ سے منسلک تھے۔ ان کے والد کا نام شہاب الدین بن محمد تھا جو ہمدان کے حاکم اور امیر تھے۔ وہ 12 رجب 714 ہجری کو ایران کے شہر ہمدان میں پیدا ہوئے اور 786 ھ میں ختلان میں وفات پا گئے۔ حضرت سید علی ہمدانیؒ سات سو مبلغوں ، ہنرمندوں اور فن کاروں کی جماعت لے کر براستہ پوٹھہ شریف، کوہالہ، کشمیر پہنچے اور اس ثقافت کا جنم ہوا جس نے جدید کشمیر کو شناخت مہیا کی۔ انھوں نے کوہسار کو مری، سرکل بکوٹ اور وادی کشمیر، لداخ اور بلتستان میں سب سے پہلےاسلام پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔ اور کوہسار و کشمیر کی ثقافت اور معیشت کو بھی ترقی دی ۔۔۔۔ انہوں نے گجنی پورہ (موجودہ راولپنڈی) سے رخت سفر باندھا، پوٹھہ شریف پہنچے، اس زمانے میں پوٹھہ شریف ایک جاگیر تھی جس کا کیٹھوال راجہ اگر خان تھا، اس نے حضرت میر سید علی ہمدانی کی خوب خاطر مدارات کی اور ان کی دعوت تبلیغ پر اسلام قبول کر لیا ۔۔۔۔ راجہ اگر خان کا نیا نام علی زمان رکھا گیا ۔۔۔۔۔ موجودہ پوٹھہ شریف کی مسجد کوہسار کی سب سے پہلی کعبہ کی بیٹی ہے جس کی بنیاد حضرت میر سید علی ہمدانیؒ نے رکھی تھی ۔۔۔۔ وہ کچھ عرصہ یہاں رہے اور آدھے سے زیادہ کیٹھوال قبیلہ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا، حضرت ہمدانیؒ کے قیام کے دوران ہی کوہسار میں پہلا رمضان بھی آیا ۔۔۔۔ آپ کے مریدین نے اس مسجد میں نماز تراویح کا آغاز کیا بلکہ پہلی بار نو مسلم کیٹھوال قبیلہ کو پورا قرآن بھی سنایا ۔۔۔۔ عید کی نماز پڑھائی اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے کر اور تزکیہ نفس کے بعد وہ کشمیر کی جانب بڑھے۔
اس زمانے میں چونکہ ہر قسم کا انج گھر کی پیداوار تھی، گوشت، دودھ اور اس کی مصنوعات بھی گھر کی ہی ہوا کرتی تھیں، جدید ذرائع ابلاغ تو تھے نہیں اس لئے اندازے پر ہی صبح اور مغرب کی اذان دی جاتی تھی ۔۔۔۔ نور پیر ناں ویلا، فدر (فجر) کلیل (دس بجے کا وقت) پیشی ، دیغر، نواشاں، اور کُفتاں (خفتاں) کے الفاظ اسی عہد کے ہیں جنہوں نے اپنی ہیئیت بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدل دی ہے۔ سورہ بقرۃ کی آیت کریمہ 187 میں دوسرے احکامات کے علاوہ ایک اہم حکم یہ بھی ہے کہ ۔۔۔۔ اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے فجر کے وقت صاف ظاہر ہو جائے ۔۔۔۔ اس زمانے کے کوہسار کے علما نے اس کا عام مفہوم یہ بیان کیا کہ ۔۔۔۔ روزہ کی نیت اس وقت کی جاوے جب آپ کو پیلے (چیونٹیاں) چلتی ہوئی نظر آئیں ۔۔۔۔ روایات بتآتی ہیں کہ کئی لوگ جو سحری کے وقت اٹھ نہیں سکتے تھے وہ دروازے بند کر کے سحری کا ماحول بنا کر کھانا پینا کر لیتے تھے اور روزے کی نیت کر کے دروازے کھول لیتے تھے (اس وقت کے علما نے یہ اجازت دی تھی یا لوگوں نے خود ہی یہ روایت ایجاد کر لی تھی، کوہسار کی تاریخ مذاہب اس بارے میں خاموش ہے ۔۔۔ سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کیلئے ڈھول بجانے کی روایت بھی اسی عہد کی نشانی ہے ۔۔۔ یہ روایت تو کہو غربی کی جندراؓں نی ڈھیری میں 1975تک جاری رہی۔۔۔۔۔ مغرب کی اذان مذہبی لوگوں کی ذمہ داری تھی، گھڑیوں کی عدم موجودگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بادل ہونے کے باوجود ۔۔۔۔ وقت سے پہلے نماز مغرب کی اذان دی گئی ہو ۔۔۔۔ کیوںکہ ذات باری تعالیٰ نے ان لوگوں میں وجدان کی وہ طاقت پیدا کی تھی جو کسی صورت غلط نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔۔ مغرب کے بعد نماز عشا اور تراویح ادا کی جاتی تھی ۔۔۔۔ دریوں اور قالینوں پر نہیں بلکہ مسجد کے فرش پر بچھے چن پوتھل (چیڑھ اور دیار کے نوکیلے سوکھے پتے) پر ۔۔۔۔ یہ تو نصف صدی قبل تک بچھایا یاتا تھا ۔۔۔۔ دیہہ کی تمام سگھڑ خواتین مسجد کی صفائی ستھرائی کر کے رمضان سے قبل ہی دخر کعبہ کو دلہن بنا دیا کرتی تھیں۔
اس عہد کے لوگ محنت کش تھے ۔۔۔۔ سرگی ( سحری) میں دہی ،لسی، دودھ، مکئی کی روٹی، دیسی گھی کا باٹ استعمال کیا جاتا تھا ۔۔۔۔۔ سردیوں کے موسم میں دیسی مرغی کی زخمی (یخنی)، گوشت بھی سحر و افطار کا لازمی جزو تھا، لوگ گھر میں ہی فدریں نی نماژ ادا کر کے کھیتوں کی طرف نکل جاتے، اور دیہیں لہٹنے (زوال ) کے وقت گھروں کو واپس لوٹتے، چشموں اور ناڑوں یا چھمبوں (آبشاروں) پر جا کر نہاتے، جسم کو کسرتی بناتے، واپس آ کر پیشی نی نماژ (نماز ظہر) ادا کرتے اور خواتین خانہ کے ساتھ مل کر افطاری کی تیاری شروع کرتے، افطاری میں بھی ڈیری کی اشیا تو لازمی ہوا کرتی تھیں البتہ موسم کے لحاظ سے دوبن (پراٹھے)، یخنی، بوہلی، باٹ، اوریا وغیرہ تیار کیا جاتا ۔۔۔۔ افطاری سے ایک گھنٹہ پہلے ہی مسجد میں عوام دیہہ کی طرف سے ایک دو یا ہر گھر میں پکنے والی ڈشیں پہنچ جاتیں جس سے امام مسجد، نماز مغرب میں شامل نمازی اور مسافر استفادہ کرتے، یوں بھی اونڈ گونڈ (ہمسائے میں) بھی ہر گھر میں پکنے والی سوغاتوں کا تبادلہ ہوتا ۔۔۔۔ اس عہد میں ایک گھر سے دوسرے میں آگ بھی مانگ کر لے جائی جاتی تھی اور اسے بھی وسیلہ خیر و برکت سمجھا جاتا بالخصوص رمضان المبارک میں جس گھر میں کوئی دودھ دینے والا مویشی نہ ہوتا تو اس گھر کو ۔۔۔۔ رُکھا ۔۔۔۔ قرار دے کر تمام اہل دیہہ نماز ظہر سے ہی دودھ، لسی، دہی، مکھن، دیسی گھی وغیرہ ہدیہ کرتے اور صرف ایک بات کا سوال کرتے ۔۔۔۔ روزہ کھولنیاں ساہڑے تائیں وی دعا کریا ۔
آج بھی آپ یہ بات کہیں کہیں سننے کو ملتی ہے کہ ۔۔۔۔۔ کہرے ناں کیہہ مکھن، ہون خاو خیال ہوئی غے، ڈالٹا ملیا وا دیسی کیہہ، پانی تے کیمیکل ملیا وا دودھ ۔۔۔۔ اور اس صورتحال پر آہیں بھرتے لوگ کیا جانیں کہ ۔۔۔۔ ایک وقت تھا کہ کوہسار میں دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات بیچنا جرم اور پاپ تھا ۔۔۔۔ رُکھے لوگ مویشی والوں سے زیادہ عیش کرتے تھے کیوں کہ گائوں کے سارے مویشیوں کے دودھ کا 20 فیصد انہی رُکھے لوگوں کا حصہ ہوتا تھا ۔۔۔۔ روزیاں نیں میہنے چ( رمضان المبارک) میں تو ستاں سویلاں (علی الصبح) رُکھے لوگوں کے ڈولے اور گلنیاں دودھ، دہی اور لسی سے اہل دیہہ بھر دیا کرتے تھے ۔۔۔۔ اور پھر یوں ہوا کہ ۔۔۔۔؟
1914 میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی ۔۔۔۔ ہالینڈ کا شہزادہ بوسنیا کے دورے پر آیا اور قتل ہو گیا ۔۔۔۔ ہالینڈ نے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا مگر اس مطالبے کو اتنی پذیرائی نہ مل سکی، ایک ہفتے بعد ہالینڈ نے بوسنیا کو الٹی میٹم دے کر اس پر حملہ کر دیا، ایک ہفتے بعد پوری دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئی، خلافت عثمانیہ کے خلیفہ عبدالحمید خان، جرمنی کا بسمارک کا ایک طرف اتحاد تھا اور دوسری جانب پوری
دنیا تھی ۔۔۔۔ 1857کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہمارے ہر گھر کو خاکستر کرنے اور ہر گھر کو لاشیں دینے والےانگریز کو کوئی ہمارے ساتھ ہمدردی نہیں تھی۔۔۔۔۔ انہیں خلافت عثمانیہ کو توڑنے کیلئے برٹش آرمی کو ہندوستانی انسانی خچروں کی سامان ڈھونے کیلئے ضرورت تھی ۔۔۔۔ 1916میں لام بندی (جبری بھرتی) ہوئی تو کوہسار کے ہزاروں لوگوں کو برٹش انڈیا کا فوزی بن کر بیرون ملک جانے کا پہلی بار موقع بھی ملا ۔۔۔۔ میرا Key board اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے لرز رہا ہے کہ ۔۔۔۔ کوہسار کے سیدھے سادے مسلمانوں کو ہاتھوں میں رائفلیں دے کر حرم کعبہ کے دروازے پر کھڑا کر دیا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ حاجیوں، عمرہ کرنے والوں، رکوع و سجود کرنے والون پر فائرنگ کریں ۔۔۔۔ کتاب پنجابی مسلمانز کا رائیٹر جے ایم ویکلے لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔ حجاز میں ہمارے پنجابی مسلمانوں نے عرب جانبازوں سے ہماری ہاری ہوئی جنگ ہمیں جیت کر دی ۔۔۔۔ کوہسار کے یہ فوزی دنیا کے دیگر ممالک بھی گئے وہاں سے وہ پہلی بار کوہسار میں چینی کے برتن(ٹی سیٹ، واٹر سیٹ اور ڈنر سیٹ) لائے، انہوں نے بیرون ملک زردہ، پلائو، کیسٹرڈ، بند، پیسٹری، شیرمال اور اسی طرح کی دیگر سوغاتیں بھی بنانا سیکھیں اور کوہسار بالخصوص مری شہر ، گھوڑا ڈھاکہ (موجودہ ایوبیہ)، کوزہ گلی، باڑہ گلی اور نتھیا گلی میں انگریزوں کی ان سوغاتوں سے ضروریات بھی پوری کرنے لگے ۔۔۔۔ یہ ولایتی چینی کے سیٹ اس وقت کسی بھی خاندان کا سٹیٹس سمبل تھے ۔۔۔۔ کوہالہ کے ڈاک بنگلہ، بڑے ہوٹلوں میں اور نمبردار لوگ انہی میں گورے افسروں کی خاطر مدارات کرتے تھے ۔۔۔۔ اس طرح ڈیری مصنوعات کے ساتھ ساتھ پہلی بار ان فوزیوں نے افطاری اور سحری میں پہلی بار چائے اور بیکری کا سامان متعارف کرایا ۔۔۔۔ اس بات سے یہ بات نہ سمجھی جاوے کہ اس سے پہلے ۔۔۔۔ اہل کوہسار کے پاس غزائیت سے بھر پور ڈشیں نہیں تھیں ۔۔۔۔ دیسی گھی میں تلے جانے والے سونف ملے خوشبودار پکوان، دوبن (پراٹھے) ،مانیاں اور اوریا تو ہماری وہ سوغاتیں تھیں جو پورے انڈیا میں کسی کے پاس نہ تھیں ۔۔۔۔ نئی چیزیں آنے سے پر تکلف سحری اور افطاری کے ٹیسٹ (ذائقہ) میں ورائٹی آ گئی تھی۔ سینٹرل بیروٹ میں تھاتھی کے ٹیچر شوکت کے نانا (نام بھول گیا ہوں) پہلی جنگ عظیم کے وہ واحد فوزی تھے جنہوں نے ایک صدی سے زائد عمر پائی ۔۔۔۔ مجھے بھی ان کا دیدار نصیب ہوا تھا۔
1941یں دوسری جنگ عظیم کا بگل بج گیا ۔۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔۔۔ سابق فوزیوں کی شان و شوکت، پلسن (پنشن) ، اور راشن اور صحت کی سہولیات سمیت دیگر مراعات نے تو ۔۔۔۔ فوزی نوکری ۔۔۔۔ کو اہلیان کوہسار کیلئے دی موسٹ فیورٹ بنا دیا تھا ۔۔۔۔ اس نوکری نے کوہسار کے لوگوں کو اتنا گرویدہ بنایا کہ لوگ اپنی اولادوں کے نام بھی ۔۔۔۔ افسر خان اور باوو خان ۔۔۔۔ رکھنے لگے ۔۔۔۔ پرٹش آرمی کی طرف سے اعلان کی دیر تھی، کوہالہ، گھڑیال، مری، تھوبہ(باڑیاں) گھوڑا ڈھاکہ، نتھیا گلی، ایبٹ آباد، کاکول، نواں شہر اور راولپنڈی میں کوہسار کے دودھ سے پلے چھاتیاں چوڑی کئے اور پنجے کے بل کھڑے ہو کر قد پورا کرتے بھرتی مراکز پہنچ گئے ۔۔۔۔ انگریزوں کو اور کیا چائیے تھا ۔۔۔۔۔؟ مائوں کے دلارے آخری بار گھر آ کر ۔۔۔۔ بووو، لالے، ماسیوں، پھوپھیوں، چاچے تائیوں سے گلے مل کر اپنے گناہ بخشواتے ۔۔۔۔ چھوٹی بہنوں کو دلاسے دیتے ۔۔۔۔۔ گھر والی کو سہنانے سُفنے دکھاتے اور اگلے روز اپنے ٹیشن سے فوزی ٹرکوں میں بیٹھ کر نا معلوم منزلوں کی جانب روانہ ہو جاتے ۔۔۔۔۔ اس جنگ عظیم کے دوران کوہسار کے ان انسانی غلاموں کو صرف ایک قانون پڑھایا جاتا کہ ۔۔۔۔ جینا اور مرنا صرف برطانیہ عظمیٰ کیلئے ۔۔۔۔۔ ان فوجیوں نے بھی انگریز کی آخری غلامی میں واقعی دلیری اور جرات کے وہ کارنامے انجام دئے کہ ۔۔۔۔ وکٹوریہ کراس اور دیگر چھوٹے بڑے تمغے، منٹگمری (موجودہ ساہیول) میں مربعے بھی حاصل کئے ۔۔۔۔ مگر اس جنگ عظیم نے کسی بھی گھر کیلئے آنے والے ٹیلیگرام کو موت کا پروانہ بنا دیا، چھٹی لمبی ہو جاتی تو مائیں اپنے پتروں، بہنیں اپنے ویروں اور اور سہاگنیں اپنے سر کے تاجوں کو شعرون میں یاد کرتیں ۔۔۔۔۔ باغ کے پروفیسر ڈاکٹر صغیر خان نے ان کے ان دکھی اشعار کو ۔۔۔۔۔ واریں اور چن ۔۔۔۔ قرار دیا ہے۔ انہی دوسری جنگ عظیم کے حوالداروں، صوبیداروں اور دیگر فوجی عہدیداروں نے1947 سے شروع ہونے والے جہاد کشمیر میں بھی حصہ لیا اور کشمیری ظالم حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کو سری نگر سے بھاگنے پر مجبور کیا ۔۔۔۔۔ یہ فوزی دیار غیر سے اپنے ساتھ ۔۔۔۔ حقہ، ریڈیو، چینی(کوہسار میں کھنڈ، گُڑ اور برائون شکراستعمال ہوتی تھی، چینی بھی اس وقت ایک سٹیٹس سمبل تھی) ، حلوہ، حبشی حلوہ، مشینی سوئیاں (کوہسار میں چکنے گھڑوں پر بنائی جانے والی سوئیاں پہلے سے زیر استعمال تھیں) ، چاٹ ،دلیہ اور پکوڑے ساتھ لائے ، کھرسی اور ٹیول بھی پہلی بار کوہسار میں متعارف ہوئے ۔۔۔۔۔ با وسائل اور امیر گھرانے سحری اور افطری میں یہ اشیا استعمال کرنے لگے ۔۔۔۔ اور ان فوزیوں کی دین سے آج ہر گھر میں سرگی اور افطاری تو ۔۔۔۔۔ پکوڑوں کے رکن اعظم ۔۔۔۔۔ کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔مگر کہاں ہمارے بزرگوں کی افطار ڈنر ۔۔۔۔ کہاں ہماری افطاریاں کہ ۔۔۔۔۔ گھر میں اگر دو مہمان زائد ہو جائیں تو ہمارے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں ۔۔۔۔؟
رمضان تو 35 سال میں ایک مسیحی سال کے بارہ ماہ کا سفر پورا کرتا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی موجودہ تپتے جون کا رمضان المبارک آپ کی زندگی میں دوبارہ 35 سال بعد آئے گا (کیا پتہ اس وقت ہم میں سے کون کون زندہ ہو گا ۔۔۔۔؟) ۔۔۔۔ کوہسار میں سردیوں کے رمضان میں ۔۔۔۔ نواز تاراوی (تراویح) کے بعد سردیوں کی طویل ٹھنڈی ٹھار کالی کالواخ راتیں ۔۔۔۔۔ کتاو (کتاب)۔۔۔۔۔ پڑھ پڑھا کر گزاری جاتی تھیں۔۔۔۔۔ یہ کتاویں کیا تھیں اور انہیں کون پڑھا کرتا تھا ۔۔۔۔۔؟
نواز تاراوی سے فارغ ہونے کے بعد لوگ مولوی صاحب کے گھر چلے جاتے یا مولوی صاحب کو ایسے گھر میں بلا لیا جاتا جہاں اہل دیہہ بڑے بڑے موگر (تنے) جلا کر اس کے ارد گرد بیٹھتے اور پھر مولوی صاحب یا اُستا جی کو نویں نویلی رنگین چارپائی پر نیا بستر بچھا کر، انہیں پٹو (کمبل) یا رضائی لپٹا کر سرہاندی بٹھایا جاتا، دیہہ کا بڑا بڈھیر (بزرگ) ان کی پاہندی بیٹھتا ۔۔۔۔ مولوی صاحب لحن دائودی میں کتاب پڑھتے اور سارے مجمع سے داد پاتے ۔۔۔۔۔ کتاب کا انتخاب مجمع یا سننے والوں کے ذوق پر ہوتا تھا ۔۔۔۔ کتابیں کئی قسم کی تھیں مگر ان میں زیادہ تر پنجابی صوفیا کی پنجابی میں لکھی شعری کتابیں زیادہ ہوا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔ ان کتابوں میں ۔۔۔۔ پکی رٹی، نورنانواں، احوال الاخرت، ہیر رانجھا، سیف الملوک اور دعائے گنج العرش مقبول تھیں مگر کوہسار میں اکثریت ثواب کے طور پر میاں محمد بخش کی سیف الملاک سننے میں دلچسپی رکھتی تھی ۔۔۔۔۔ مولوی صاحب ترنم سے سحری تک سیف الملوک پڑھتے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ سننے والے سر اور گردن ہلا ہلا کر بے خودی میں جھومتے ۔۔۔۔۔ خصوصاً جب شہزادی بدیعُ الجمال کی کسی بہادری کا ذکر ہوتا تو اہلیان کوہسار کی ایڑھیوں کو سپرنگ لگ جاتے اور ہر شعر پر وہ بے خودی کے عالم میں جھومتے ہوئے اتنی شدید سردی میں اپنے ماتھے کا پرسیو (پسینہ) پونجھتے ۔۔۔۔۔ سحری کا ڈھول بجتے ہی یہ محفل برخاست ہوتی ۔۔۔۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس جاتے ۔۔۔۔ مولوی صاحب کے گھر سحری کے وقت بھی اچھی اچھی سوغاتیں بجھوائی جاتیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو تھا نہ ٹی وی ۔۔۔۔۔ موبائل تھا نہ انٹر نیٹ ۔۔۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑے گھروں میں ٹائم پیس آئی تھی ۔۔۔۔ یہی ٹائم پیس اور اس کا الارم اہل خانہ کو سحری کیلئے جگایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ اس میں سیل وغیرہ نہیں پڑتے تھے بلکہ اس میں چابی بھری جاتی تھی ۔۔۔۔۔ اس کی ٹیون لینڈ لائن فون کی پرانی ٹیون کی طرح تھی۔۔۔۔۔ اس عہد نے زندگی میں نئی آسانیوں کے اثرات نے اہلیان کوہسار کو نئے مفاہیم سے آشنا کیا ۔۔۔۔۔ پنشن اور ہر پہلی تاریخ کو پر کشش تنخواہ اور دیگر مراعات نے فوجی نوکری کو ہر نوجوان کا فیورٹ بنا دیا، اس کیلئے لوگوں نے اپنے بچوں کے نام باوو خان اور افسر خان رکھ کر انہیں پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ ٹیلیگرام (تار) اس عہد کا کاغزی ایس ایم ایس تھا مگر ۔۔۔۔۔ تار عید مبارک کا بھی ہوتا تو کوہسار میں متعلقہ فوجی کے اہلخانہ تار کا نام سنتے ہی دہل کر رہ جاتے اور گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ۔۔۔۔۔
حضرت میاں محمد بخش اٹھارہ سو تیس میں کھڑی شریف کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔ میاں محمد بخش کے والد میاں شمس الدین قادری اور دادامیاں دین محمد قادری تھے ان کے آبا ؤ اجداد چک بہرام ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میرپور میں آ بسے تھے ۔۔۔۔۔ نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم ہوتا ہےدربار کھڑی شریف کی مسند کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر انتظام رہی ۔۔۔۔۔ ابتدائی تعلیم کھڑی کے قریب سموال کی دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے استاد غلام حسین سموالوی تھے آپ نے بچپن میں ہی علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور ابتداء ہی سے بزرگان دین سے فیوض و برکات حاصل کرنے کیلئے سیر و سیاحت کی کشمیر کے جنگلوں میں کئی ایک مجاہدے کئے شیخ احمد ولی کشمیری سے اخذ فیض کیا ۔ چکوتری شریف گئے جہاں دریائے چناب کے کنارے بابا جنگو شاہ سہروردی مجذوب سے ملاقات کی ان کی بیعت میاں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔۔۔۔۔ آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی ۔۔۔۔۔ وفات 1904ء بمطابق 1324ھ اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میرپور میں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار بھی ہے ۔۔۔۔۔ روایت کی جاتی ہیں کہ ۔۔۔۔ ان کیلئے ایک مقامی زمیندار کی خوبرو بیٹی کا رشتہ مانگا گیا ۔۔۔۔ زمیندار نے میاں جی کے قد بت اور انگلاٹھ (جسمانی ساخت) کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ اس ٹھگنے کو اپنی لاڈلی کا رشتہ دوں جسے ڈھنگ سے کھانے پینے کا سلیقہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔ جب یہ بات میاں جی کے پاس پہنچی تو ان کے زبان سے یہ اشعار رواں دواں ہونے لگے۔عاماں بے اخلاصاں کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا
خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
دودھ دی کھیر پکا محمد بخشا ـ کتیاں اگے دھرنی
بتایا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ میاں جی اس کے بعد تو عارف بااللہ ہو گئے ۔۔۔۔ مگر وہ اکلوتی خاتون اور اس کا اتھرا ابا رشتوں کی راہ تکتے تکتے اندھے ہو کر بوڑھے ہو گئے ۔۔۔۔ میاں جی نے شادی نہیں کرنی تھی نہ کی مگر ۔۔۔۔ یہ اپنے والدین کی اکلوتی خوبرو دوشیزہ بھی کنواری ہی زمین کے اندر اتر گئی ۔۔۔۔ میاں جی آج بھی اپنے کلام کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔۔۔۔ راقم کو ابھی تک میاں جی کی قدم بوسی کا شرف نصیب نہیں ہو سکا ۔۔۔۔ آپ جب بھی میرپور آزاد کشمیر جاویں تو میاں جی کی قبر پر حاضری ضرور دیں ۔۔۔۔۔ میاں جی کو رومی کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔ میرے اور آپ سب کے بزرگ اسی ہستی کی کتابیں رمضان کی طویل ٹھنڈی ٹھار اور کالی کالواخ راتوں میں پڑھا کر سنا کرتے تھے اور اپنی ایمانی حرارت سے میاں جی کے ہر ہر لفظ پر جھومتے جاتے تھے ۔۔۔۔ یہ کوہسار میں اہل ایمان کا سنہری دور تھا اور ایمان والون کا شاندار ماضی بھی ۔۔۔۔۔۔؟
رمضانالمبارک تو پینتیس سال میں ایک مسیحی سال کے بارہ ماہ کا سفر پورا کرتا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی موجودہ تپتے جون کا رمضان المبارک آپ کی زندگی میں دوبارہ 35 سال بعد آئے گا (کیا پتہ اس وقت ہم میں سے کون کون زندہ ہو گا ۔۔۔۔؟) ۔۔۔۔ کوہسار میں سردیوں کے رمضان میں ۔۔۔۔ نواز تاراوی (تراویح) کے بعد سردیوں کی طویل ٹھنڈی ٹھار کالی کالواخ راتیں ۔۔۔۔۔ کتاو (کتاب)۔۔۔۔۔ پڑھ پڑھا کر گزاری جاتی تھیں۔۔۔۔۔ یہ کتاویں کیا تھیں اور انہیں کون پڑھا کرتا تھا ۔۔۔۔۔؟
نواز تاراوی سے فارغ ہونے کے بعد لوگ مولوی صاحب کے گھر چلے جاتے یا مولوی صاحب کو ایسے گھر میں بلا لیا جاتا جہاں اہل دیہہ بڑے بڑے موگر (تنے) جلا کر اس کے ارد گرد بیٹھتے اور پھر مولوی صاحب یا اُستا جی کو نویں نویلی رنگین چارپائی پر نیا بستر بچھا کر، انہیں پٹو (کمبل) یا رضائی لپٹا کر سرہاندی بٹھایا جاتا، دیہہ کا بڑا بڈھیر (بزرگ) ان کی پاہندی بیٹھتا ۔۔۔۔ مولوی صاحب لحن دائودی میں کتاب پڑھتے اور سارے مجمع سے داد پاتے ۔۔۔۔۔ کتاب کا انتخاب مجمع یا سننے والوں کے ذوق پر ہوتا تھا ۔۔۔۔ کتابیں کئی قسم کی تھیں مگر ان میں زیادہ تر پنجابی صوفیا کی پنجابی میں لکھی شعری کتابیں زیادہ ہوا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔ ان کتابوں میں ۔۔۔۔ پکی رٹی، نورنانواں، احوال الاخرت، ہیر رانجھا، سیف الملوک اور دعائے گنج العرش مقبول تھیں مگر کوہسار میں اکثریت ثواب کے طور پر میاں محمد بخش کی سیف الملاک سننے میں دلچسپی رکھتی تھی ۔۔۔۔۔ مولوی صاحب ترنم سے سحری تک سیف الملوک پڑھتے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ سننے والے سر اور گردن ہلا ہلا کر بے خودی میں جھومتے ۔۔۔۔۔ خصوصاً جب شہزادی بدیعُ الجمال کی کسی بہادری کا ذکر ہوتا تو اہلیان کوہسار کی ایڑھیوں کو سپرنگ لگ جاتے اور ہر شعر پر وہ بے خودی کے عالم میں جھومتے ہوئے اتنی شدید سردی میں اپنے ماتھے کا پرسیو (پسینہ) پونجھتے ۔۔۔۔۔ سحری کا ڈھول بجتے ہی یہ محفل برخاست ہوتی ۔۔۔۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس جاتے ۔۔۔۔ مولوی صاحب کے گھر سحری کے وقت بھی اچھی اچھی سوغاتیں بجھوائی جاتیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو تھا نہ ٹی وی ۔۔۔۔۔ موبائل تھا نہ انٹر نیٹ ۔۔۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑے گھروں میں ٹائم پیس آئی تھی ۔۔۔۔ یہی ٹائم پیس اور اس کا الارم اہل خانہ کو سحری کیلئے جگایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ اس میں سیل وغیرہ نہیں پڑتے تھے بلکہ اس میں چابی بھری جاتی تھی ۔۔۔۔۔ اس کی ٹیون لینڈ لائن فون کی پرانی ٹیون کی طرح تھی۔۔۔۔۔ اس عہد نے زندگی میں نئی آسانیوں کے اثرات نے اہلیان کوہسار کو نئے مفاہیم سے آشنا کیا ۔۔۔۔۔ پنشن اور ہر پہلی تاریخ کو پر کشش تنخواہ اور دیگر مراعات نے فوجی نوکری کو ہر نوجوان کا فیورٹ بنا دیا، اس کیلئے لوگوں نے اپنے بچوں کے نام باوو خان اور افسر خان رکھ کر انہیں پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ ٹیلیگرام (تار) اس عہد کا کاغزی ایس ایم ایس تھا مگر ۔۔۔۔۔ تار عید مبارک کا بھی ہوتا تو کوہسار میں متعلقہ فوجی کے اہلخانہ تار کا نام سنتے ہی دہل کر رہ جاتے اور گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ۔۔۔۔۔
حضرت میاں محمد بخش آٹھارہ سو تیس میں کھڑی شریف کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔ میاں محمد بخش کے والد میاں شمس الدین قادری اور دادامیاں دین محمد قادری تھے ان کے آبا ؤ اجداد چک بہرام ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میرپور میں آ بسے تھے ۔۔۔۔۔ نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم ہوتا ہےدربار کھڑی شریف کی مسند کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر انتظام رہی ۔۔۔۔۔ ابتدائی تعلیم کھڑی کے قریب سموال کی دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے استاد غلام حسین سموالوی تھے آپ نے بچپن میں ہی علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور ابتداء ہی سے بزرگان دین سے فیوض و برکات حاصل کرنے کیلئے سیر و سیاحت کی کشمیر کے جنگلوں میں کئی ایک مجاہدے کئے شیخ احمد ولی کشمیری سے اخذ فیض کیا ۔ چکوتری شریف گئے جہاں دریائے چناب کے کنارے بابا جنگو شاہ سہروردی مجذوب سے ملاقات کی ان کی بیعت میاں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔۔۔۔۔ آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی ۔۔۔۔۔ وفات انیس سو چار میں اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میرپور میں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار بھی ہے ۔۔۔۔۔ روایت کی جاتی ہیں کہ ۔۔۔۔ ان کیلئے ایک مقامی زمیندار کی خوبرو بیٹی کا رشتہ مانگا گیا ۔۔۔۔ زمیندار نے میاں جی کے قد بت اور انگلاٹھ (جسمانی ساخت) کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ اس ٹھگنے کو اپنی لاڈلی کا رشتہ دوں جسے ڈھنگ سے کھانے پینے کا سلیقہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔ جب یہ بات میاں جی کے پاس پہنچی تو ان کے زبان سے یہ اشعار رواں دواں ہونے لگے۔عاماں ۔۔۔۔ بے اخلاصاں کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تے ہر گچھا زخمایا
خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
دودھ دی کھیر پکا محمد بخشا ـ کتیاں اگے دھرنی
بتایا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ میاں جی اس کے بعد تو عارف بااللہ ہو گئے ۔۔۔۔ مگر وہ اکلوتی خاتون اور اس کا اتھرا ابا رشتوں کی راہ تکتے تکتے اندھے ہو کر بوڑھے ہو گئے ۔۔۔۔ میاں جی نے شادی نہیں کرنی تھی نہ کی مگر ۔۔۔۔ یہ اپنے والدین کی اکلوتی خوبرو دوشیزہ بھی کنواری ہی زمین کے اندر اتر گئی ۔۔۔۔ میاں جی آج بھی اپنے کلام کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔۔۔۔ راقم کو ابھی تک میاں جی کی قدم بوسی کا شرف نصیب نہیں ہو سکا ۔۔۔۔ آپ جب بھی میرپور آزاد کشمیر جاویں تو میاں جی کی قبر پر حاضری ضرور دیں ۔۔۔۔۔ میاں جی کو رومی کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔ میرے اور آپ سب کے بزرگ اسی ہستی کی کتابیں رمضان کی طویل ٹھنڈی ٹھار اور کالی کالواخ راتوں میں پڑھا کر سنا کرتے تھے اور اپنی ایمانی حرارت سے میاں جی کے ہر ہر لفظ پر جھومتے جاتے تھے ۔۔۔۔ یہ کوہسار میں اہل ایمان کا سنہری دور تھا اور ایمان والون کا شاندار ماضی بھی ۔۔۔۔۔۔؟
کوہسار میں اسلام کی کرنیں حضرت سید علی ہمدانیؒ کی آمد سے بھی کافی عرصہ پہلے بکھر چکی تھیں جب ایک صحابی رسول حضرت ابی وقاصؓ رسول محترم ﷺ کی زندگی کے آخری ایام میں ہی ایک راجہ ابی سار کی دعوت پر ٹیکسلا تشریف لائے۔۔۔۔۔ اس نے آپؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔۔۔۔ تین سال بعد وہ تھوبہ (باڑیاں) ملکوٹ، دیول اور کھودر کے راستے پونچھ سے ہوتے ہوئے سری نگر پہنچے تھے اور وہاں سے وہ اندرون ہند کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔۔۔ خطہ کوہسار اس عہد میں ٹیکسلا کنگ ڈم کا حصہ تھا ۔۔۔۔ اسلام کا پیغام کوہسار کے سب سے بڑے کیٹھوال قبیلہ تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔ حضرت علی ہمدانیؒ جب پوٹھوہار کے راستے پوٹھہ آئے تو فضا تیار تھی ۔۔۔۔ آپ کا شاندار استقبال اور کیٹھوالوں کے سرداروں کا قبول اسلام، کوہسار کی پہلی مسجد کی تعمیر اور حضرت اور ان کے مریدین کی ایک سال تک خدمت اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔۔۔۔۔ پوٹھہ صرف پوٹھہ نہ رہا لکہ یہ کوہسار کا عظیم روحانی مرکز بھی بن گیا ۔۔۔۔۔ اس کا عروج تاریخ نے حضرت ملک سراج خانؒ کے عہد میں دیکھا ۔۔۔۔۔
تہذیب جب کروٹ بدلتی ہے تو اپنے ماضی کو بھی جزوی طور پر ساتھ لے کر چلتی ہے ۔۔۔۔۔ کوہسار میں اسلام کی آمد ایک بہت بڑا مذہبی، سماجی، سیاسی اور تہذیبی انقلاب تھا ۔۔۔۔ کیٹھوال قبیلہ کی اپنی قبیلائی روایات تھیں، وہ اپنے مُردوں کو شرقاً غرباً دفن کرتے تھے، وہ دلہن کو ڈولی میں دولہا کے گھر لاتے تھے، گھر کا سربراہ اگرچہ مرد ہوتا تھا مگر فیصلے کی توثیق گھر کی عمر میں سب سے بڑی خاتون دیا کرتی تھی، عجیب بات یہ ہے کہ اس وقت کے سب سے بڑے ہند آریائی مذہب میں گائے مقدس جانور تھا مگر کیٹھوال بیل اور سانپ کو پوجتے تھے، شیو ان کا دیوتا تھا اور ان کا کوہسار میں مقدس ترین مقام ۔۔۔۔ موکش پور پربت ۔۔۔۔ بمعنی ۔۔۔۔ نجات کا پہاڑ تھ ا۔۔۔۔ دیول اور دیولیاں (چھوٹے مندر) بھی جگہ جگہ تھے، ان کی تجارت کشمیر تک تھی مگر انتظامی طور پر پہلے وہ کشمیر کے راجوں کے تابع تھے ، محمود غزنوی کی آمد کے بعد جب جہلم سے کاغان تک کا پوٹھوہار اور کوہسار ایک ہزار سالہ لیز پر گکھڑوں کے حوالے کیا گیا تو کیٹھوال ۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے باجگزار ہو گئے ۔۔۔۔ سیاسی طور پر وہ کسی بھی دیہہ میں موجودہ یونین کونسل کے دفتر کی طرح دیوان رکھتے اور وہاں ہی دیہہ کے معاملات فیصل کئے جاتے ۔۔۔۔۔ ان کی امارت ان کےجیرانوں (قبرستانوں) میں ان کی قبروں کے سائز سے عیاں تھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے بیس گزی، نو گزی، پانچ گزی قبر ۔۔۔۔ کہو شرقی میں چوریاں کے مقام پر ایسی نو گزی قبر موجود ہے جبکہ وی سی بیروٹ کلاں میں ڈنہ مسجد کے ساتھ قبرستان میں کیٹھوالوں کی قبروں کے آثار اور ان کے برتن ساز کارخانوں کی ٹھیکریاں دیکھی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔ اسلام کی آمد سے کیٹھوالوں کا پورا سماج نوے فیصد تک تبدیل ہو گیا بلکہ کچھ چیزوں کی اسلامائیزیشن بھی کی گئی جیسے تسبیح، مندر کی جگہ مسجد، قبروں کو اسلامی طریقے سے شمالاً جنوباً بنانے کی روایت اور شیو دیوتا، بیل اور ناگ کی جگہ خدائے واحد و شاہد کی عبادت ۔۔۔۔۔ اس کیلئے ہر گھر میں ایک چوک کی تعمیر ۔۔۔۔۔ آج کا موضوع یہی چوک ہیں۔
کیٹھوال اسلام کی آمد سے قبل چوک کو بطور بیٹھک استعمال کرتے ۔۔۔۔۔ بیل کے گوبر سے اسے پوتر (پاک) کرتے، یہیں وہ قبیلائی جرگے کرتے، یہاں ہی وہ اپنا ماتھا بھی بیل اور ناگ کے سامنے ٹیکتے ۔۔۔۔ اسلام کی آمد کے بعد بھی چوک برقرار رہے مگر اب یہاں ناپاکی کا تو تصور نہیں تھا بلکہ یہ چوک ہر گھر کا لازمی حصہ اور عبادتگاہ بن گئے ۔۔۔۔۔ تیرھویں صدی میں ایک اور سیاسی انقلاب آیا ۔۔۔۔ کیٹھوالوں نے گکھڑوں کے خلاف بغاوت کر دی ۔۔۔۔ ٹیکس اور دیگر محصولات بھی دینے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔ اس صورتحال میں گکھڑ راجہ ہاتھی خان کو امید کی ایک کرن نظر آئی۔۔۔۔ وہ کشمیر گیا اور پونچھ کے سردار تولک خان سے ملا ۔۔۔۔ تولک خان کے ماضی کے بزرگ اعظم خان اور ان کی برادری جنگ مولتان میں گکھڑوں کی کمان میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھا چکے تھے اور ہاتھی خان کے پرکھے بھی اس بات کے معترف تھے ۔۔۔۔ ہاتھی خان نے تولک خان کے آگے اپنی پریشانی رکھی اور تعاون مانگا ۔۔۔۔۔ ڈیل میں یہ بات طے ہوئی کہ اگر تولک خان اور ان کی برادری موجودہ سرکل بکوٹ، کوہ مری اور لورا ناڑا کا علاقہ کیٹھوالوں اور کڑرالوں سے آزاد کرا لے تو ۔۔۔۔ تمام حقوق چھ ماہی (50 فیصد) ہوں گے۔۔۔۔ تولک خان نے کچھ مہلت مانگی اور پھر بکوٹ سے اپنی جنگی حکمت عملی کا آغاز کیا ۔۔۔۔ آپریشن سے قبل دو آدمی بکوٹ کے کڑرالوں کے ہوتروں میں بھوکی گھوڑیوں کے ساتھ بھیجے ۔۔۔۔ تاہیں نسری ہوئی تھی ۔۔۔۔ گھوڑیوں نے تباہی پھیر دی ۔۔۔۔ ایک آدمی آیا اس نے گھوڑی کو اپنے ہوتر سے نکال کر دوسرے میں ڈال دیا ۔۔۔۔ شام تک یہی تماشا ہوتا رہا اور مطلوبہ نتائج نے تولک خان کا حوصلہ بڑھایا ۔۔۔۔ دو ماہ میں بکوٹ کڑرالوں سے اور کو مری کیٹھوالوں سے خالی ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ اور یہ سرزمین ڈھونڈ عباسیوں کے پاس آ چکی تھی۔

حضرت پیر ملک سراج خانؒ کا پوٹھہ شریف میں مزار
--------------------------------------------------------
قدیم عہد میں تین برادریاں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتی تھیں ۔۔۔۔ ڈھونڈ عباسی فیوڈل لارڈز مذہبی گھرانوں کو اپنے ساتھ رکھتے اور ان کی کفالت بھی کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ بنیادی مذہبی فرائض کی ذمہ داری شروع دن سے ہی اعوانوں اور سیدوں کے پاس تھی ۔۔۔۔ مسجد اور مکتب کے علاوہ دیگر شادی غمی کے مذہبی امور بھی یہی اعوان اور سید ادا کرتے تھے ۔۔۔۔ فیوڈل لارڈز نسل در نسل اپنی ہی برادری میں رشتے کرتے اس طرح یہ ایک الگ حکمران طبقہ بن گیا ۔۔۔۔ اعوان اور سیدوں کی رشتہ داریاں بھی آپس میں ہوتی تھیں ۔۔۔۔ یہ بھی ایک مقدس طبقہ تھا اور ہمیشہ ساتھ ساتھ ہوتا تھا، عمرانیات کی اصطلاح میں یہ سماج کا تھنک ٹینک تھا ۔۔۔۔۔ تیسرا طبقہ ہنر مند برادریوں کا تھا اسے آپ سماج کی اقتصادیات قرار دے سکتے ہیں ۔۔۔۔ رولنگ اور دستکار کلاس پر مذہبی کلاس کا احترام اور ان کا تحفظ لازمی تھا ۔۔۔۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دیہہ کا حکمران مذہبی طبقے کے کسی پیشوا کو بلایا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ خود چل کر میاں جی یا استاد جی کے پاس جاتا، چوک پر بیٹھتا اور من کی مراد پاتا ۔۔۔۔ یہ چوک اس وقت کے دیوانوں (یونین کونسلوں) سے بھی زیادہ مقدس تھے ۔۔۔۔ اور ہر مسئلہ یہاں ہی بیٹھ کر حل کیا جاتا تھا۔1980 کے بعد چوک ائوٹ آف ڈیٹ ہو گئے ۔۔۔۔ ان کو توڑ کر گھر کا حصہ بنا دیا گیا ۔۔۔۔۔ آج کوہسار بھر میں کہیں بھی آپ کو چوک نظر نہیں آئے گا ۔۔۔۔ راقم کے گھر کا چوک بھی 1985 میں توڑ دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
حضرت پیر ملک سراج خان اور ان کا عہد
یہ حقیقت کئی ایک حوالوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ ۔۔۔۔۔ کوہسار کے ان اجلے کوہساروں میں جس دھرتی نے اسلام کو اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔ اسےخدائے واحد و شاہد کی سجدہ گاہ بنایا ۔۔۔۔۔ جہاں کے شجر و حجر نے قدوسیوں کی پہلی اذان سحر سنی وہ ۔۔۔۔۔ پوٹھہ شریف کی اسلام نگری ۔۔۔۔۔ تھی، حضرت سید علی ہمدانیؒ کو کوہسار سے روپوش ہوئے صدیاں بیت گئیں، اب اس پوٹھہ شریف کی اس اسلام نگری میں رب کی دھرتی پر اس کے سرمدی پپیام کی ایک بار پھر باز گشت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی، رب کائنات نے اس کا بھی بندوبست کر دیا اور عم رسول حضرت عباس کی 34 ویں نسل سے ایک مجدد پیدا کیا جسے دنیا ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خانؒ کے نام سے جانتی ہے۔
حضرت پیر ملک سراج خان بیک وقت کئی ایک پہلودار شخصیت ہیں ۔۔۔۔۔ وہ ایک ہی وقت میں فیوڈل لارڈ، ایک بڑے قبیلے کے چیف اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انیسویں صدی کے اواخر تک حضرت پیر بکوٹی کی آمد تک آسمان روحانیات پر ایک خورشید کی طرح چمکتے رہے ہیں ۔۔۔۔ ان کی مرقد پر پیر بکوٹیؒ نے ہمیشہ حاضری دی اور آخری بار حضرت پیر ملک سراج خان کی مسجد اور مزار کی تعمیر نو بھی انہوں نے ہی کروائی ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خان اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے ۔۔۔۔۔ مری میں موجودہ پوری یو سی علیوٹ اور موہڑہ عیسوال ان کی جائیداد تھی، شروع میں وہ عام نوجوانوں کی طرح شکار کے شوقین تھے، کبھی مری کے جنگلات میں چلے جاتے اور کبھی دریائے جہلم پر مچھلیاں لگاتے ۔۔۔۔ ماہ و سال گزرتے رہے ۔۔۔۔۔ ایک روز انہیں دریا پر کافی دیر ہو گئی، سامان سمیٹ کر واپسی کی راہ لینے لگے تو انہیں محسوس ہوا کہ کوئی دور کھڑا انہیں بلا رہا ہے ۔۔۔۔۔ وہ اس سمت چل پڑے ۔۔۔۔۔ ایک سبز پوش باریش شخص ان کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔ یہ اس کے سامنے پہنچے تو وہ انہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔ وہ آگے بڑھا اور انہیں سینے سے لگا لیا اور بولا ۔۔۔۔۔ تمہاری آوارہ گردی ختم، گھر میں بیٹھو، اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرو ۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد وہ ہانپتے کانپتےگھر پہنچے ۔۔۔۔۔ ان کے منہ سے الفاظ نکلے، مجھے کمبل اوڑھا دو، کیانکہ یہی میرے نبی ﷺ کی سنت ہے ۔۔۔۔۔ کمبل اوڑھتے ہی ان کی آنکھ لگ گئی اور وہی سبز پوش شخص ان کے سرہانے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اور ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کچھ پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خان ایک دم چنگے بھلے ہو گئے، وضو کیا اور مصلے پر کھڑے ہو گئے۔
سب کچھ بدل چکا تھا ۔۔۔۔۔ پوٹھہ کا سردار سراج خان اب حضرت پیر ملک سراج خان بن چکا تھا ۔۔۔۔۔ مہمان تو ان کے گھر میں کشمیر آتے جاتے آ تے ہی تھے مگر اب ۔۔۔۔۔ یہاں انہوں نے لنگر کا انتظام بھی کر دیا، گھر میں موجود سارا اناج مسافروں کیلئے وقف کر دیا ۔۔۔۔۔ آپ نے بھی سبز خرقہ اوڑھ لیا اور ایک جبوترے پر بیٹھ کر اللہ کے مہمانوں کی تواضح کے انتظامات کی نگرانی کرنے لگے ۔۔۔۔۔ دن کو خدمت اور رات کو ذکر الٰہی سے پوٹھہ شریف کے درو دیوار جھومنے لگے ۔۔۔۔۔ ذکر مصطفیٰ ﷺ بلند ہونے لگا، اب ان کی شناخت یہ نہیں رہی کہ وہ کسی قبیلہ کے سردار ہیں ۔۔۔۔۔؟ نہ وہ اس وقت کے موسیاڑی (موجودہ مری) کے جاگیردار ہیں بلکہ پورے کوہسار، کشمیر اور پوٹھوہار میں ایک روحابی شخصیت کے طور پر جانے جانے لگے ۔۔۔۔۔ آپ کے آستانے میں جو کوئی آتا اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ وہ جائے گا کب ۔۔۔۔۔؟ وہ پورا سال وہاں رہتا، لنگر سے استفادہ کرتا ہاں جب وہ جانے لگتا تو آپ ضرور پوچھتے کہ کس کام سے آئے تھے، کوئی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔؟ وہ اناج کی ضرورت بتاتا تو آپ اسے مکئی یا گندم جو موجود ہوتی اسے دیتے، مال مویشی درکار ہوتا تو بھینس، گائے یا بکری بھیڑ جو اس کی ضرورت ہوتی آپ اس کے حوالے کر دیتے، کپڑے لتے کا سوال کرتا تو اس کی پوری زنانہ مردانہ فیملی کیلئے بھی عطا کر دیتے۔
مورخین بیان کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ آپ کے دور میں دھیر کوٹ کی لڑائی ہوئی تھی مگر آپ کی بہترین حکمت عملی سے ڈھونڈ عباسیوں اور ستیوں میں خون ریزی ٹل گئی تھی اور ان کے حسن خلق سے متاثر ہو کر دونوں فریقین نے اپنے اپنے مطالباست واپس لیکر امن و آشتی سے رہنے کا جو عہد و پیمان کیا وہ آج تک قائم ہے ۔۔۔۔۔ ڈھونڈ عباسی ہونے کے باوجود آپ کی انتہائی قریبی رشتہ داریاں کیٹھوال اور ستی قبیلہ سے بھی تھیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا تعلق ستی قبیلہ سے تھا جبکہ دو صاحبزادیاں کیٹھوال قبیلہ کی بہو تھیں (واللہ اعلم)۔
آپ کو جس وجہ سے اہلیان کوہسار اپنی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور سمجھتے ہیں وہ آپ کی دینی خدمات ہیں ۔۔۔۔۔ آپ نے اللہ کے مہمانوں کیلئے قیام و طعام کا بندو بست تو کیا مگر آپ کی ذاتی شخصیت اور کردار کی وجہ سے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں غیر مسلموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام ضرور قبول کیا، ان میں سے تو بعض عمر بھر کیلئے ان کے خادم بن گئے اور دیگر آپ کو روشنی کے ایک مینار کی حیثیت سے جاننے لگے
۔۔۔۔۔ آپ نے پوٹھہ شریف میں ایک خانقاہ اور ایک مدرسہ بھی بنوایا جہاں اپنے عباسی قبیلہ کے علاوہ دور دراز سے آنے والے تشنگان علم بھی پیاس بجھانے لگے ۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ اور مری پر مشتمل کوہسار بھر کے راجے اور راجواڑے اس خطہ کے حاکم سید پور کے گکھڑوں کو اناج، مویشیوں اور نقدی کی صورت میں خراج دینے کے پابند تھے اور اگر کوئی ڈنڈی مارتا تو وہ اپنی انٹیلی جنس کی رپورٹ پر ذمہ دار شخص کو باغی قرار دے کر اسے اہل دیہہ کے بیچ کھڑا کر کے اس کے بال منڈوا کر اس کی کھوپڑی پر اخروٹ رکھ کر اس پر بیس کلو کی پرات گھماتے، جرم کی سنگینی کی نوعیت پر بعض اوقات اس کی کھوپڑی ٹوٹ کر اخروٹ اس کے اندر چلا جاتا اور وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خان نے گکھڑوں کے اس وحشیانہ سزا کو بھی معطل کرایا بلکہ مال مویشی، دیگر سامان کا خراج بھی معاف کروا کر صرف اناج کو رہنے دیا جو 25 کے بجائے صرف دس فیصد کر دیا گیا ۔۔۔۔۔ اس سے جب لوگوں کو ریلیف ملا تو وہ آپ کی عقیدت میں دیوانے ہو گئے ۔۔۔۔۔ کوہسار کا یہ مرد خدا بالآخر 82 سال کی عمر میں معمولی بخار کے بعد اپنے رب الارباب کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔۔۔ اس وقت علیوٹ اور موہڑہ عیسوال میں آپ کی اولاد سورج آل کہلاتی ہے ۔۔۔۔۔ ملکوٹ والے سورجال ان کی اولاد میں سے نہیں ہیں، ان کے جد امجد بھی سورج خان تھے مگر ان کا تعلق غالباً نمب بدھڑیال یا خوشی کوٹ سے تھا۔۔۔۔۔۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت راسترھویں صدی کے وسط میں اس بات کے آثار پیدا ہو چلے تھے کہ ۔۔۔۔۔ سید پور کے کوہسار پر حکمران گکھڑوں کا قبائل کوہسار کے ساتھ سلوک روز بروز توہین آمیز ہو رہا تھا، معمولی معمولی بات پر اب تو اہل دیہہ کے سامنے سر بھی قلم ہونے شروع ہو گئے تھے اور اگر بکری نے دو بغروٹے دئے اور ایک سید پور پہنچنے میں تاخیر ہو گئی تو ٹکٹکی کے ساتھ باندھ کر ابلتا پانی ملزم کے وجود پر ڈالا جاتا ۔۔۔۔۔ بات یہ ہوئی تھی کہ پہلے پھروالا کہوٹہ سے سید پور الگ ہوا اور پھر سید پور سے خانپور نہ صرف الگ ہوا بلکہ سرکل بکوٹ، مری اور سرکل لورہ کےعلاقوں اور ان کے خراج اور ٹیکسوں کا بٹوارہ بھی ہو گیا ۔۔۔۔۔ وسائل میں کمی سے سید پور کے حکمران بپھر گئے اور انہوں نے اب کوہسار کو لوٹنے کا پروگرام شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ ایسے میں کوہسار میں بہت بڑا دینی اور روحانی خلا پیدا ہوا، اہلیان کوہسار کسی مسیحا کے منتظر تھے جو انہیں اب گکھڑوں کی غلامی سے نجات دلاتا ۔۔۔۔۔ ایسے میں کشمیر میں سکھوں کی یورش ہوئی، کوہسار میں گکھڑوں کے خلاف اعلان بغاوت کے ساتھ ان کے عمال (Authorities) کو دریائے جہلم میں پھینک دیا گیا اور ساتھ ہی ہزارہ میں حضرت سید احمد اور شاہ اسماعیل نے اہلیان کوہسار کو جہاد میں شمولیت کی دعوت دی جس پر قبائل کوہسار نے لبیک کہا اور کوہسار سے مجاہدین کے دستے میدان پکھل اور رش میں پہنچنا شروع ہو گئے۔
مولانا غلام رسول مہر اپنی کتاب معرکہ بالا کوٹ میں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ قبائل کوہسار نے خانوادہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒکی کال پر پروانہ وار جہاد بالاکوٹ میں حصہ لیا ۔۔ ان دونوں عظیم ہستیوں کی بالا کوٹ میں شہادت کے باوجود اہلیان کوہسار نے جتھوں کی صورت میں جہاد جاری رکھا ۔۔۔۔ مرکزیت، عدم رابطے اور قیادت کے فقدان کے باعث اہلیان کوہسار نے اس جہاد کی بہت بڑی قیمت چکائی ۔۔۔۔ سکھوں نے کوہسار فتح کرنے کے بعد یہاں پر مجاہدین کو ساں دب (زندہ درگور) کیا، روایت ہے کہ وی سی باسیاں کی مرکزی جامع مسجد کے پیچھے قبرستان انہی مجاہدین کا ہے جنہیں آزادی اور جہاد کی پاداش میں ساں دب کیا گیا، اسی طرح دریائے جہلم کے غربی کنارے پر ہر فرلانگ پر جو آپ کو شہر خموشاں نظر آتے ہیں یہ انہی بے نام فرزندان کوہسار کے ہیں ۔۔۔۔
سکھوں نے کوہسار پر قبضہ کے بعد سب سے پہلے دین اسلام اور کوہسار کے مذہبی گھرانوں پر نظریاتی حملہ کیا، ملاں کا اسم معرفہ ۔۔۔۔ مولیٰ ۔۔۔۔ سے مشتق ہے، سکھوں نے سب سے پہلے ان مذہبی گھرانوں کی تضحیک کی، اس عہد میں ان کے بارے میں یہ ٹوٹے چلنے شروع ہوئے ۔۔۔۔
ملاں ملولے، ٹہائی پا چھولے
ہک چھولا کچا، ملاں مہاڑا بچہ
اور ۔۔۔۔۔
ملاں نئیں بہڑئیے، توئی کہہ لگے ہیڑھہ نال
اس کے علاوہ مولوی صاحب کو ۔۔۔۔ مسیتڑھ ۔۔۔۔ نواشاں کھایا ۔۔۔۔۔ شکاط خورہ ۔۔۔۔ جیسی گالیوں سے بھی نوازہ گیا اور امام مسجد، خطیب، عالم دین اور مذہبی حوالے سے کسی بھی محراب و ممبر سے تعلق رکھنے والے شخص کو ۔۔۔۔ داھڑیالی منجھ ۔۔۔۔۔ کہا گیا، اگر بات یہاں ہی رکتی تو بھی قابل معافی تھی بلکہ ان دین محمدﷺ کے دشمنوں نے (نعوذ باللہ) آیات قرآنی کی پیروڈی بھی شروع کر دی (نقل کفر کفر نا باشد) ۔۔۔۔۔ ا(بحوالہ: اساں نیں نبی پاک ﷺہو، از محبت حسین اعوان)ان بکواسات اور محراب و ممبر کی تحقیر نے ان مذہبی خاندانوں کو نہ صٓرف بے توقیر کیا بلکہ اس وقت کی یونین کونسلیں جو دیوان کہلاتی تھیں اس کے مقامی چیئرمین بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور خوب جی بھر اہل علم و دانش کو حقارت بھرے رویے سے مایوس کیا ۔۔۔۔ اس تاریک دور میں آہستہ آہستہ مساجد اور مکتب ویران ہوتے چلے گئے اور جب 1833-38 میں خونخوار ہری سنگھ نلوہ نے کوہسار میں قتل عام کیا تو اہلیان کوہسار کو جنازہ پڑھانے والا بھی کوئی نہ تھا۔ (بحوالہ، تاریخ پونچھ از سید محمود آزاد)
یہ کوہسار کا عہد جہالت `1845 کے معاہدہ امرتسر کے ذریعے انگریزوں کی آمد اور سکھوں کے زوال تک جاری رہا ۔۔۔۔۔ ایسے میں مایوس ترین اہلیان کوہسار کیلئے حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کی صورت میں ایک خورشید جہاں تاب چکار کے موضع پجہ شریف سے طلوع ہوا ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ اس عہد میں بھی سکھوں سے بھی خطرناک فتنہ قادیانت نے مری شہر میں اپنے ڈیرے لگا لئے، حضرت پیر بکوٹیؒ اور ان کے رفقا نے اس فتنہ کفر کے سونامی کے سامنے بھی ایک سد سکندری کھڑی کی اور اسے مری شہر کے شمال میں جڑیں گاڑھنے سے روک دیا ۔۔۔۔۔ نماز جمعہ کو رائج کرنے کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ مسلمانان کوہسار مرزائے قادیان اور اس کے چیلوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے محفوظ رہ کر اپنا دین و ایمان کی بھی سرپرستی کر سکیں ۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ آپؒ نے اہلیان کوہسار کو ان کی دین سے محبت اور عشق بھی یاد دلایا ۔۔۔۔۔ اور اہلیان کوہسار کو یکتا و یکجا بھی ایسے کیا جس طرح ۔۔۔۔۔ ہادی برحق ﷺ نے عربوں کو کیا تھا ۔۔۔۔ اقبالؒ کے الفاظ میں ۔۔۔۔۔
کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
نظر میں، حضر میں، اذان سحر میں
اہلیان کوہسار جب بیدار ہوئے تو انہوں نے راقم السطور کے جد امجد ۔۔۔۔۔ مولانا میاں قاضی نیک محمد علویؒ (کھوہاس) ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ مولانا میاں قاضی نور محمد علویؒ (لمیاں لڑاں) جیسے جید علمائے دین کو قومی کوٹ اور چھپڑیاں، مظفرآباد سے نہایت مذہبی جوش و جذبہ اور احترام کے ساتھ بیروٹ لا کر ۔۔۔۔۔ جان و مال اور عزت و آبرو کی ضمانتوں اور عمرانی معاہدے (Social contract) کے تحت آباد کیا، بکوٹ کا قاضی قبیلہ، اوسیاہ اور باسیاں کے جدون، کہو شرقی اور بیروٹ کے بخاری اور کاظمی سادات، بیروٹ خورد اور باسیاں کے قریشی اسی عہد کی نشانیاں ہیں جنہوں نے ڈھونڈ عباسیوں کے دینی اور خدمت محراب و منبر کے جذبہ کے تحت دختران کعبہ کو دوبارہ آباد کیا ۔۔۔۔۔ وہاں سے پانچوں وقت اذان سنی جانے لگی ۔۔۔۔۔ ماہ صیام میں نماز تراویح بھی شروع ہوئی اور پہلے بیروٹ اور بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں بکوٹ میں بیر بکوٹی نے کوہسار میں نماز جمعہ کی ادائیگی شروع کروا کر روحانیات کے ذمزمے بہا دئے جن کا فیض آج تک بلکہ قیامت تک جاری رہے گا ۔۔۔۔۔۔ اب عباسی برادری کے قاری سیف اللہ سیفی، قاری اسداللہ عباسی، مولانا مفتی عتیق عباسی اور دیگر وارثان علم الانبیا اس زمانہ قحط الرجال میں یہ مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ شاعر کوہسارمولانا یعقوب علوی بیروٹویؒ کے الفاظ میں:
خدا برکت دہد در دین و ایماں مال و اولادش
طفیل سید خیرالبشر ۔۔۔۔۔۔ آقائے فارانی ﷺ
اس زمانے میں چونکہ ہر قسم کا انج گھر کی پیداوار تھی، گوشت، دودھ اور اس کی مصنوعات بھی گھر کی ہی ہوا کرتی تھیں، جدید ذرائع ابلاغ تو تھے نہیں اس لئے اندازے پر ہی صبح اور مغرب کی اذان دی جاتی تھی ۔۔۔۔ نور پیر ناں ویلا، فدر (فجر) کلیل (دس بجے کا وقت) پیشی ، دیغر، نواشاں، اور کُفتاں (خفتاں) کے الفاظ اسی عہد کے ہیں جنہوں نے اپنی ہیئیت بھی وقت کے ساتھ ساتھ بدل دی ہے۔ سورہ بقرۃ کی آیت کریمہ 187 میں دوسرے احکامات کے علاوہ ایک اہم حکم یہ بھی ہے کہ ۔۔۔۔ اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ تمہارے لیے سفید دھاری سیاہ دھاری سے فجر کے وقت صاف ظاہر ہو جائے ۔۔۔۔ اس زمانے کے کوہسار کے علما نے اس کا عام مفہوم یہ بیان کیا کہ ۔۔۔۔ روزہ کی نیت اس وقت کی جاوے جب آپ کو پیلے (چیونٹیاں) چلتی ہوئی نظر آئیں ۔۔۔۔ روایات بتآتی ہیں کہ کئی لوگ جو سحری کے وقت اٹھ نہیں سکتے تھے وہ دروازے بند کر کے سحری کا ماحول بنا کر کھانا پینا کر لیتے تھے اور روزے کی نیت کر کے دروازے کھول لیتے تھے (اس وقت کے علما نے یہ اجازت دی تھی یا لوگوں نے خود ہی یہ روایت ایجاد کر لی تھی، کوہسار کی تاریخ مذاہب اس بارے میں خاموش ہے ۔۔۔ سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کیلئے ڈھول بجانے کی روایت بھی اسی عہد کی نشانی ہے ۔۔۔ یہ روایت تو کہو غربی کی جندراؓں نی ڈھیری میں 1975تک جاری رہی۔۔۔۔۔ مغرب کی اذان مذہبی لوگوں کی ذمہ داری تھی، گھڑیوں کی عدم موجودگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بادل ہونے کے باوجود ۔۔۔۔ وقت سے پہلے نماز مغرب کی اذان دی گئی ہو ۔۔۔۔ کیوںکہ ذات باری تعالیٰ نے ان لوگوں میں وجدان کی وہ طاقت پیدا کی تھی جو کسی صورت غلط نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔۔ مغرب کے بعد نماز عشا اور تراویح ادا کی جاتی تھی ۔۔۔۔ دریوں اور قالینوں پر نہیں بلکہ مسجد کے فرش پر بچھے چن پوتھل (چیڑھ اور دیار کے نوکیلے سوکھے پتے) پر ۔۔۔۔ یہ تو نصف صدی قبل تک بچھایا یاتا تھا ۔۔۔۔ دیہہ کی تمام سگھڑ خواتین مسجد کی صفائی ستھرائی کر کے رمضان سے قبل ہی دخر کعبہ کو دلہن بنا دیا کرتی تھیں۔
اس عہد کے لوگ محنت کش تھے ۔۔۔۔ سرگی ( سحری) میں دہی ،لسی، دودھ، مکئی کی روٹی، دیسی گھی کا باٹ استعمال کیا جاتا تھا ۔۔۔۔۔ سردیوں کے موسم میں دیسی مرغی کی زخمی (یخنی)، گوشت بھی سحر و افطار کا لازمی جزو تھا، لوگ گھر میں ہی فدریں نی نماژ ادا کر کے کھیتوں کی طرف نکل جاتے، اور دیہیں لہٹنے (زوال ) کے وقت گھروں کو واپس لوٹتے، چشموں اور ناڑوں یا چھمبوں (آبشاروں) پر جا کر نہاتے، جسم کو کسرتی بناتے، واپس آ کر پیشی نی نماژ (نماز ظہر) ادا کرتے اور خواتین خانہ کے ساتھ مل کر افطاری کی تیاری شروع کرتے، افطاری میں بھی ڈیری کی اشیا تو لازمی ہوا کرتی تھیں البتہ موسم کے لحاظ سے دوبن (پراٹھے)، یخنی، بوہلی، باٹ، اوریا وغیرہ تیار کیا جاتا ۔۔۔۔ افطاری سے ایک گھنٹہ پہلے ہی مسجد میں عوام دیہہ کی طرف سے ایک دو یا ہر گھر میں پکنے والی ڈشیں پہنچ جاتیں جس سے امام مسجد، نماز مغرب میں شامل نمازی اور مسافر استفادہ کرتے، یوں بھی اونڈ گونڈ (ہمسائے میں) بھی ہر گھر میں پکنے والی سوغاتوں کا تبادلہ ہوتا ۔۔۔۔ اس عہد میں ایک گھر سے دوسرے میں آگ بھی مانگ کر لے جائی جاتی تھی اور اسے بھی وسیلہ خیر و برکت سمجھا جاتا بالخصوص رمضان المبارک میں جس گھر میں کوئی دودھ دینے والا مویشی نہ ہوتا تو اس گھر کو ۔۔۔۔ رُکھا ۔۔۔۔ قرار دے کر تمام اہل دیہہ نماز ظہر سے ہی دودھ، لسی، دہی، مکھن، دیسی گھی وغیرہ ہدیہ کرتے اور صرف ایک بات کا سوال کرتے ۔۔۔۔ روزہ کھولنیاں ساہڑے تائیں وی دعا کریا ۔
آج بھی آپ یہ بات کہیں کہیں سننے کو ملتی ہے کہ ۔۔۔۔۔ کہرے ناں کیہہ مکھن، ہون خاو خیال ہوئی غے، ڈالٹا ملیا وا دیسی کیہہ، پانی تے کیمیکل ملیا وا دودھ ۔۔۔۔ اور اس صورتحال پر آہیں بھرتے لوگ کیا جانیں کہ ۔۔۔۔ ایک وقت تھا کہ کوہسار میں دودھ اور دودھ سے بنی مصنوعات بیچنا جرم اور پاپ تھا ۔۔۔۔ رُکھے لوگ مویشی والوں سے زیادہ عیش کرتے تھے کیوں کہ گائوں کے سارے مویشیوں کے دودھ کا 20 فیصد انہی رُکھے لوگوں کا حصہ ہوتا تھا ۔۔۔۔ روزیاں نیں میہنے چ( رمضان المبارک) میں تو ستاں سویلاں (علی الصبح) رُکھے لوگوں کے ڈولے اور گلنیاں دودھ، دہی اور لسی سے اہل دیہہ بھر دیا کرتے تھے ۔۔۔۔ اور پھر یوں ہوا کہ ۔۔۔۔؟
1914 میں پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی ۔۔۔۔ ہالینڈ کا شہزادہ بوسنیا کے دورے پر آیا اور قتل ہو گیا ۔۔۔۔ ہالینڈ نے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا مگر اس مطالبے کو اتنی پذیرائی نہ مل سکی، ایک ہفتے بعد ہالینڈ نے بوسنیا کو الٹی میٹم دے کر اس پر حملہ کر دیا، ایک ہفتے بعد پوری دنیا اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئی، خلافت عثمانیہ کے خلیفہ عبدالحمید خان، جرمنی کا بسمارک کا ایک طرف اتحاد تھا اور دوسری جانب پوری
دنیا تھی ۔۔۔۔ 1857کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہمارے ہر گھر کو خاکستر کرنے اور ہر گھر کو لاشیں دینے والےانگریز کو کوئی ہمارے ساتھ ہمدردی نہیں تھی۔۔۔۔۔ انہیں خلافت عثمانیہ کو توڑنے کیلئے برٹش آرمی کو ہندوستانی انسانی خچروں کی سامان ڈھونے کیلئے ضرورت تھی ۔۔۔۔ 1916میں لام بندی (جبری بھرتی) ہوئی تو کوہسار کے ہزاروں لوگوں کو برٹش انڈیا کا فوزی بن کر بیرون ملک جانے کا پہلی بار موقع بھی ملا ۔۔۔۔ میرا Key board اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے لرز رہا ہے کہ ۔۔۔۔ کوہسار کے سیدھے سادے مسلمانوں کو ہاتھوں میں رائفلیں دے کر حرم کعبہ کے دروازے پر کھڑا کر دیا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ حاجیوں، عمرہ کرنے والوں، رکوع و سجود کرنے والون پر فائرنگ کریں ۔۔۔۔ کتاب پنجابی مسلمانز کا رائیٹر جے ایم ویکلے لکھتا ہے کہ ۔۔۔۔ حجاز میں ہمارے پنجابی مسلمانوں نے عرب جانبازوں سے ہماری ہاری ہوئی جنگ ہمیں جیت کر دی ۔۔۔۔ کوہسار کے یہ فوزی دنیا کے دیگر ممالک بھی گئے وہاں سے وہ پہلی بار کوہسار میں چینی کے برتن(ٹی سیٹ، واٹر سیٹ اور ڈنر سیٹ) لائے، انہوں نے بیرون ملک زردہ، پلائو، کیسٹرڈ، بند، پیسٹری، شیرمال اور اسی طرح کی دیگر سوغاتیں بھی بنانا سیکھیں اور کوہسار بالخصوص مری شہر ، گھوڑا ڈھاکہ (موجودہ ایوبیہ)، کوزہ گلی، باڑہ گلی اور نتھیا گلی میں انگریزوں کی ان سوغاتوں سے ضروریات بھی پوری کرنے لگے ۔۔۔۔ یہ ولایتی چینی کے سیٹ اس وقت کسی بھی خاندان کا سٹیٹس سمبل تھے ۔۔۔۔ کوہالہ کے ڈاک بنگلہ، بڑے ہوٹلوں میں اور نمبردار لوگ انہی میں گورے افسروں کی خاطر مدارات کرتے تھے ۔۔۔۔ اس طرح ڈیری مصنوعات کے ساتھ ساتھ پہلی بار ان فوزیوں نے افطاری اور سحری میں پہلی بار چائے اور بیکری کا سامان متعارف کرایا ۔۔۔۔ اس بات سے یہ بات نہ سمجھی جاوے کہ اس سے پہلے ۔۔۔۔ اہل کوہسار کے پاس غزائیت سے بھر پور ڈشیں نہیں تھیں ۔۔۔۔ دیسی گھی میں تلے جانے والے سونف ملے خوشبودار پکوان، دوبن (پراٹھے) ،مانیاں اور اوریا تو ہماری وہ سوغاتیں تھیں جو پورے انڈیا میں کسی کے پاس نہ تھیں ۔۔۔۔ نئی چیزیں آنے سے پر تکلف سحری اور افطاری کے ٹیسٹ (ذائقہ) میں ورائٹی آ گئی تھی۔ سینٹرل بیروٹ میں تھاتھی کے ٹیچر شوکت کے نانا (نام بھول گیا ہوں) پہلی جنگ عظیم کے وہ واحد فوزی تھے جنہوں نے ایک صدی سے زائد عمر پائی ۔۔۔۔ مجھے بھی ان کا دیدار نصیب ہوا تھا۔
1941یں دوسری جنگ عظیم کا بگل بج گیا ۔۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔۔۔ سابق فوزیوں کی شان و شوکت، پلسن (پنشن) ، اور راشن اور صحت کی سہولیات سمیت دیگر مراعات نے تو ۔۔۔۔ فوزی نوکری ۔۔۔۔ کو اہلیان کوہسار کیلئے دی موسٹ فیورٹ بنا دیا تھا ۔۔۔۔ اس نوکری نے کوہسار کے لوگوں کو اتنا گرویدہ بنایا کہ لوگ اپنی اولادوں کے نام بھی ۔۔۔۔ افسر خان اور باوو خان ۔۔۔۔ رکھنے لگے ۔۔۔۔ پرٹش آرمی کی طرف سے اعلان کی دیر تھی، کوہالہ، گھڑیال، مری، تھوبہ(باڑیاں) گھوڑا ڈھاکہ، نتھیا گلی، ایبٹ آباد، کاکول، نواں شہر اور راولپنڈی میں کوہسار کے دودھ سے پلے چھاتیاں چوڑی کئے اور پنجے کے بل کھڑے ہو کر قد پورا کرتے بھرتی مراکز پہنچ گئے ۔۔۔۔ انگریزوں کو اور کیا چائیے تھا ۔۔۔۔۔؟ مائوں کے دلارے آخری بار گھر آ کر ۔۔۔۔ بووو، لالے، ماسیوں، پھوپھیوں، چاچے تائیوں سے گلے مل کر اپنے گناہ بخشواتے ۔۔۔۔ چھوٹی بہنوں کو دلاسے دیتے ۔۔۔۔۔ گھر والی کو سہنانے سُفنے دکھاتے اور اگلے روز اپنے ٹیشن سے فوزی ٹرکوں میں بیٹھ کر نا معلوم منزلوں کی جانب روانہ ہو جاتے ۔۔۔۔۔ اس جنگ عظیم کے دوران کوہسار کے ان انسانی غلاموں کو صرف ایک قانون پڑھایا جاتا کہ ۔۔۔۔ جینا اور مرنا صرف برطانیہ عظمیٰ کیلئے ۔۔۔۔۔ ان فوجیوں نے بھی انگریز کی آخری غلامی میں واقعی دلیری اور جرات کے وہ کارنامے انجام دئے کہ ۔۔۔۔ وکٹوریہ کراس اور دیگر چھوٹے بڑے تمغے، منٹگمری (موجودہ ساہیول) میں مربعے بھی حاصل کئے ۔۔۔۔ مگر اس جنگ عظیم نے کسی بھی گھر کیلئے آنے والے ٹیلیگرام کو موت کا پروانہ بنا دیا، چھٹی لمبی ہو جاتی تو مائیں اپنے پتروں، بہنیں اپنے ویروں اور اور سہاگنیں اپنے سر کے تاجوں کو شعرون میں یاد کرتیں ۔۔۔۔۔ باغ کے پروفیسر ڈاکٹر صغیر خان نے ان کے ان دکھی اشعار کو ۔۔۔۔۔ واریں اور چن ۔۔۔۔ قرار دیا ہے۔ انہی دوسری جنگ عظیم کے حوالداروں، صوبیداروں اور دیگر فوجی عہدیداروں نے1947 سے شروع ہونے والے جہاد کشمیر میں بھی حصہ لیا اور کشمیری ظالم حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کو سری نگر سے بھاگنے پر مجبور کیا ۔۔۔۔۔ یہ فوزی دیار غیر سے اپنے ساتھ ۔۔۔۔ حقہ، ریڈیو، چینی(کوہسار میں کھنڈ، گُڑ اور برائون شکراستعمال ہوتی تھی، چینی بھی اس وقت ایک سٹیٹس سمبل تھی) ، حلوہ، حبشی حلوہ، مشینی سوئیاں (کوہسار میں چکنے گھڑوں پر بنائی جانے والی سوئیاں پہلے سے زیر استعمال تھیں) ، چاٹ ،دلیہ اور پکوڑے ساتھ لائے ، کھرسی اور ٹیول بھی پہلی بار کوہسار میں متعارف ہوئے ۔۔۔۔۔ با وسائل اور امیر گھرانے سحری اور افطری میں یہ اشیا استعمال کرنے لگے ۔۔۔۔ اور ان فوزیوں کی دین سے آج ہر گھر میں سرگی اور افطاری تو ۔۔۔۔۔ پکوڑوں کے رکن اعظم ۔۔۔۔۔ کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔مگر کہاں ہمارے بزرگوں کی افطار ڈنر ۔۔۔۔ کہاں ہماری افطاریاں کہ ۔۔۔۔۔ گھر میں اگر دو مہمان زائد ہو جائیں تو ہمارے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں ۔۔۔۔؟
رمضان تو 35 سال میں ایک مسیحی سال کے بارہ ماہ کا سفر پورا کرتا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی موجودہ تپتے جون کا رمضان المبارک آپ کی زندگی میں دوبارہ 35 سال بعد آئے گا (کیا پتہ اس وقت ہم میں سے کون کون زندہ ہو گا ۔۔۔۔؟) ۔۔۔۔ کوہسار میں سردیوں کے رمضان میں ۔۔۔۔ نواز تاراوی (تراویح) کے بعد سردیوں کی طویل ٹھنڈی ٹھار کالی کالواخ راتیں ۔۔۔۔۔ کتاو (کتاب)۔۔۔۔۔ پڑھ پڑھا کر گزاری جاتی تھیں۔۔۔۔۔ یہ کتاویں کیا تھیں اور انہیں کون پڑھا کرتا تھا ۔۔۔۔۔؟
نواز تاراوی سے فارغ ہونے کے بعد لوگ مولوی صاحب کے گھر چلے جاتے یا مولوی صاحب کو ایسے گھر میں بلا لیا جاتا جہاں اہل دیہہ بڑے بڑے موگر (تنے) جلا کر اس کے ارد گرد بیٹھتے اور پھر مولوی صاحب یا اُستا جی کو نویں نویلی رنگین چارپائی پر نیا بستر بچھا کر، انہیں پٹو (کمبل) یا رضائی لپٹا کر سرہاندی بٹھایا جاتا، دیہہ کا بڑا بڈھیر (بزرگ) ان کی پاہندی بیٹھتا ۔۔۔۔ مولوی صاحب لحن دائودی میں کتاب پڑھتے اور سارے مجمع سے داد پاتے ۔۔۔۔۔ کتاب کا انتخاب مجمع یا سننے والوں کے ذوق پر ہوتا تھا ۔۔۔۔ کتابیں کئی قسم کی تھیں مگر ان میں زیادہ تر پنجابی صوفیا کی پنجابی میں لکھی شعری کتابیں زیادہ ہوا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔ ان کتابوں میں ۔۔۔۔ پکی رٹی، نورنانواں، احوال الاخرت، ہیر رانجھا، سیف الملوک اور دعائے گنج العرش مقبول تھیں مگر کوہسار میں اکثریت ثواب کے طور پر میاں محمد بخش کی سیف الملاک سننے میں دلچسپی رکھتی تھی ۔۔۔۔۔ مولوی صاحب ترنم سے سحری تک سیف الملوک پڑھتے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ سننے والے سر اور گردن ہلا ہلا کر بے خودی میں جھومتے ۔۔۔۔۔ خصوصاً جب شہزادی بدیعُ الجمال کی کسی بہادری کا ذکر ہوتا تو اہلیان کوہسار کی ایڑھیوں کو سپرنگ لگ جاتے اور ہر شعر پر وہ بے خودی کے عالم میں جھومتے ہوئے اتنی شدید سردی میں اپنے ماتھے کا پرسیو (پسینہ) پونجھتے ۔۔۔۔۔ سحری کا ڈھول بجتے ہی یہ محفل برخاست ہوتی ۔۔۔۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس جاتے ۔۔۔۔ مولوی صاحب کے گھر سحری کے وقت بھی اچھی اچھی سوغاتیں بجھوائی جاتیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو تھا نہ ٹی وی ۔۔۔۔۔ موبائل تھا نہ انٹر نیٹ ۔۔۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑے گھروں میں ٹائم پیس آئی تھی ۔۔۔۔ یہی ٹائم پیس اور اس کا الارم اہل خانہ کو سحری کیلئے جگایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ اس میں سیل وغیرہ نہیں پڑتے تھے بلکہ اس میں چابی بھری جاتی تھی ۔۔۔۔۔ اس کی ٹیون لینڈ لائن فون کی پرانی ٹیون کی طرح تھی۔۔۔۔۔ اس عہد نے زندگی میں نئی آسانیوں کے اثرات نے اہلیان کوہسار کو نئے مفاہیم سے آشنا کیا ۔۔۔۔۔ پنشن اور ہر پہلی تاریخ کو پر کشش تنخواہ اور دیگر مراعات نے فوجی نوکری کو ہر نوجوان کا فیورٹ بنا دیا، اس کیلئے لوگوں نے اپنے بچوں کے نام باوو خان اور افسر خان رکھ کر انہیں پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ ٹیلیگرام (تار) اس عہد کا کاغزی ایس ایم ایس تھا مگر ۔۔۔۔۔ تار عید مبارک کا بھی ہوتا تو کوہسار میں متعلقہ فوجی کے اہلخانہ تار کا نام سنتے ہی دہل کر رہ جاتے اور گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ۔۔۔۔۔
حضرت میاں محمد بخش اٹھارہ سو تیس میں کھڑی شریف کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔ میاں محمد بخش کے والد میاں شمس الدین قادری اور دادامیاں دین محمد قادری تھے ان کے آبا ؤ اجداد چک بہرام ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میرپور میں آ بسے تھے ۔۔۔۔۔ نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم ہوتا ہےدربار کھڑی شریف کی مسند کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر انتظام رہی ۔۔۔۔۔ ابتدائی تعلیم کھڑی کے قریب سموال کی دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے استاد غلام حسین سموالوی تھے آپ نے بچپن میں ہی علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور ابتداء ہی سے بزرگان دین سے فیوض و برکات حاصل کرنے کیلئے سیر و سیاحت کی کشمیر کے جنگلوں میں کئی ایک مجاہدے کئے شیخ احمد ولی کشمیری سے اخذ فیض کیا ۔ چکوتری شریف گئے جہاں دریائے چناب کے کنارے بابا جنگو شاہ سہروردی مجذوب سے ملاقات کی ان کی بیعت میاں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔۔۔۔۔ آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی ۔۔۔۔۔ وفات 1904ء بمطابق 1324ھ اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میرپور میں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار بھی ہے ۔۔۔۔۔ روایت کی جاتی ہیں کہ ۔۔۔۔ ان کیلئے ایک مقامی زمیندار کی خوبرو بیٹی کا رشتہ مانگا گیا ۔۔۔۔ زمیندار نے میاں جی کے قد بت اور انگلاٹھ (جسمانی ساخت) کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ اس ٹھگنے کو اپنی لاڈلی کا رشتہ دوں جسے ڈھنگ سے کھانے پینے کا سلیقہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔ جب یہ بات میاں جی کے پاس پہنچی تو ان کے زبان سے یہ اشعار رواں دواں ہونے لگے۔عاماں بے اخلاصاں کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا
خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
دودھ دی کھیر پکا محمد بخشا ـ کتیاں اگے دھرنی
بتایا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ میاں جی اس کے بعد تو عارف بااللہ ہو گئے ۔۔۔۔ مگر وہ اکلوتی خاتون اور اس کا اتھرا ابا رشتوں کی راہ تکتے تکتے اندھے ہو کر بوڑھے ہو گئے ۔۔۔۔ میاں جی نے شادی نہیں کرنی تھی نہ کی مگر ۔۔۔۔ یہ اپنے والدین کی اکلوتی خوبرو دوشیزہ بھی کنواری ہی زمین کے اندر اتر گئی ۔۔۔۔ میاں جی آج بھی اپنے کلام کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔۔۔۔ راقم کو ابھی تک میاں جی کی قدم بوسی کا شرف نصیب نہیں ہو سکا ۔۔۔۔ آپ جب بھی میرپور آزاد کشمیر جاویں تو میاں جی کی قبر پر حاضری ضرور دیں ۔۔۔۔۔ میاں جی کو رومی کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔ میرے اور آپ سب کے بزرگ اسی ہستی کی کتابیں رمضان کی طویل ٹھنڈی ٹھار اور کالی کالواخ راتوں میں پڑھا کر سنا کرتے تھے اور اپنی ایمانی حرارت سے میاں جی کے ہر ہر لفظ پر جھومتے جاتے تھے ۔۔۔۔ یہ کوہسار میں اہل ایمان کا سنہری دور تھا اور ایمان والون کا شاندار ماضی بھی ۔۔۔۔۔۔؟
رمضانالمبارک تو پینتیس سال میں ایک مسیحی سال کے بارہ ماہ کا سفر پورا کرتا ہے ۔۔۔۔۔ یعنی موجودہ تپتے جون کا رمضان المبارک آپ کی زندگی میں دوبارہ 35 سال بعد آئے گا (کیا پتہ اس وقت ہم میں سے کون کون زندہ ہو گا ۔۔۔۔؟) ۔۔۔۔ کوہسار میں سردیوں کے رمضان میں ۔۔۔۔ نواز تاراوی (تراویح) کے بعد سردیوں کی طویل ٹھنڈی ٹھار کالی کالواخ راتیں ۔۔۔۔۔ کتاو (کتاب)۔۔۔۔۔ پڑھ پڑھا کر گزاری جاتی تھیں۔۔۔۔۔ یہ کتاویں کیا تھیں اور انہیں کون پڑھا کرتا تھا ۔۔۔۔۔؟
نواز تاراوی سے فارغ ہونے کے بعد لوگ مولوی صاحب کے گھر چلے جاتے یا مولوی صاحب کو ایسے گھر میں بلا لیا جاتا جہاں اہل دیہہ بڑے بڑے موگر (تنے) جلا کر اس کے ارد گرد بیٹھتے اور پھر مولوی صاحب یا اُستا جی کو نویں نویلی رنگین چارپائی پر نیا بستر بچھا کر، انہیں پٹو (کمبل) یا رضائی لپٹا کر سرہاندی بٹھایا جاتا، دیہہ کا بڑا بڈھیر (بزرگ) ان کی پاہندی بیٹھتا ۔۔۔۔ مولوی صاحب لحن دائودی میں کتاب پڑھتے اور سارے مجمع سے داد پاتے ۔۔۔۔۔ کتاب کا انتخاب مجمع یا سننے والوں کے ذوق پر ہوتا تھا ۔۔۔۔ کتابیں کئی قسم کی تھیں مگر ان میں زیادہ تر پنجابی صوفیا کی پنجابی میں لکھی شعری کتابیں زیادہ ہوا کرتی تھیں ۔۔۔۔۔ ان کتابوں میں ۔۔۔۔ پکی رٹی، نورنانواں، احوال الاخرت، ہیر رانجھا، سیف الملوک اور دعائے گنج العرش مقبول تھیں مگر کوہسار میں اکثریت ثواب کے طور پر میاں محمد بخش کی سیف الملاک سننے میں دلچسپی رکھتی تھی ۔۔۔۔۔ مولوی صاحب ترنم سے سحری تک سیف الملوک پڑھتے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ سننے والے سر اور گردن ہلا ہلا کر بے خودی میں جھومتے ۔۔۔۔۔ خصوصاً جب شہزادی بدیعُ الجمال کی کسی بہادری کا ذکر ہوتا تو اہلیان کوہسار کی ایڑھیوں کو سپرنگ لگ جاتے اور ہر شعر پر وہ بے خودی کے عالم میں جھومتے ہوئے اتنی شدید سردی میں اپنے ماتھے کا پرسیو (پسینہ) پونجھتے ۔۔۔۔۔ سحری کا ڈھول بجتے ہی یہ محفل برخاست ہوتی ۔۔۔۔ لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس جاتے ۔۔۔۔ مولوی صاحب کے گھر سحری کے وقت بھی اچھی اچھی سوغاتیں بجھوائی جاتیں۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو تھا نہ ٹی وی ۔۔۔۔۔ موبائل تھا نہ انٹر نیٹ ۔۔۔۔۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑے گھروں میں ٹائم پیس آئی تھی ۔۔۔۔ یہی ٹائم پیس اور اس کا الارم اہل خانہ کو سحری کیلئے جگایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ اس میں سیل وغیرہ نہیں پڑتے تھے بلکہ اس میں چابی بھری جاتی تھی ۔۔۔۔۔ اس کی ٹیون لینڈ لائن فون کی پرانی ٹیون کی طرح تھی۔۔۔۔۔ اس عہد نے زندگی میں نئی آسانیوں کے اثرات نے اہلیان کوہسار کو نئے مفاہیم سے آشنا کیا ۔۔۔۔۔ پنشن اور ہر پہلی تاریخ کو پر کشش تنخواہ اور دیگر مراعات نے فوجی نوکری کو ہر نوجوان کا فیورٹ بنا دیا، اس کیلئے لوگوں نے اپنے بچوں کے نام باوو خان اور افسر خان رکھ کر انہیں پڑھانا بھی شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ ٹیلیگرام (تار) اس عہد کا کاغزی ایس ایم ایس تھا مگر ۔۔۔۔۔ تار عید مبارک کا بھی ہوتا تو کوہسار میں متعلقہ فوجی کے اہلخانہ تار کا نام سنتے ہی دہل کر رہ جاتے اور گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ۔۔۔۔۔
حضرت میاں محمد بخش آٹھارہ سو تیس میں کھڑی شریف کے ایک گاؤں چک ٹھاکرہ میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے۔۔۔۔۔۔ میاں محمد بخش کے والد میاں شمس الدین قادری اور دادامیاں دین محمد قادری تھے ان کے آبا ؤ اجداد چک بہرام ضلع گجرات سے ترک سکونت کر کے میرپور میں آ بسے تھے ۔۔۔۔۔ نسبا آپ فاروقی ہیں سلسلہ نسب فاروق اعظم پر ختم ہوتا ہےدربار کھڑی شریف کی مسند کافی مدت تک آپ کے خاندان کے زیر انتظام رہی ۔۔۔۔۔ ابتدائی تعلیم کھڑی کے قریب سموال کی دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں آپ کے استاد غلام حسین سموالوی تھے آپ نے بچپن میں ہی علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کی اور ابتداء ہی سے بزرگان دین سے فیوض و برکات حاصل کرنے کیلئے سیر و سیاحت کی کشمیر کے جنگلوں میں کئی ایک مجاہدے کئے شیخ احمد ولی کشمیری سے اخذ فیض کیا ۔ چکوتری شریف گئے جہاں دریائے چناب کے کنارے بابا جنگو شاہ سہروردی مجذوب سے ملاقات کی ان کی بیعت میاں غلام محمد کلروڑی شریف والوں سے تھی۔۔۔۔۔ آپ نے زندگی بھر شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی بسر کی ۔۔۔۔۔ وفات انیس سو چار میں اپنے آبائی وطن کھڑی شریف ضلع میرپور میں ہوئی اور وہاں پر ہی مزار بھی ہے ۔۔۔۔۔ روایت کی جاتی ہیں کہ ۔۔۔۔ ان کیلئے ایک مقامی زمیندار کی خوبرو بیٹی کا رشتہ مانگا گیا ۔۔۔۔ زمیندار نے میاں جی کے قد بت اور انگلاٹھ (جسمانی ساخت) کا مزاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ اس ٹھگنے کو اپنی لاڈلی کا رشتہ دوں جسے ڈھنگ سے کھانے پینے کا سلیقہ بھی نہیں ۔۔۔۔۔ جب یہ بات میاں جی کے پاس پہنچی تو ان کے زبان سے یہ اشعار رواں دواں ہونے لگے۔عاماں ۔۔۔۔ بے اخلاصاں کولوں فیض کسے نہ پایا
ککر تے انگور چڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تے ہر گچھا زخمایا
خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
دودھ دی کھیر پکا محمد بخشا ـ کتیاں اگے دھرنی
بتایا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔۔ میاں جی اس کے بعد تو عارف بااللہ ہو گئے ۔۔۔۔ مگر وہ اکلوتی خاتون اور اس کا اتھرا ابا رشتوں کی راہ تکتے تکتے اندھے ہو کر بوڑھے ہو گئے ۔۔۔۔ میاں جی نے شادی نہیں کرنی تھی نہ کی مگر ۔۔۔۔ یہ اپنے والدین کی اکلوتی خوبرو دوشیزہ بھی کنواری ہی زمین کے اندر اتر گئی ۔۔۔۔ میاں جی آج بھی اپنے کلام کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں ۔۔۔۔ راقم کو ابھی تک میاں جی کی قدم بوسی کا شرف نصیب نہیں ہو سکا ۔۔۔۔ آپ جب بھی میرپور آزاد کشمیر جاویں تو میاں جی کی قبر پر حاضری ضرور دیں ۔۔۔۔۔ میاں جی کو رومی کشمیر بھی کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔ میرے اور آپ سب کے بزرگ اسی ہستی کی کتابیں رمضان کی طویل ٹھنڈی ٹھار اور کالی کالواخ راتوں میں پڑھا کر سنا کرتے تھے اور اپنی ایمانی حرارت سے میاں جی کے ہر ہر لفظ پر جھومتے جاتے تھے ۔۔۔۔ یہ کوہسار میں اہل ایمان کا سنہری دور تھا اور ایمان والون کا شاندار ماضی بھی ۔۔۔۔۔۔؟
کوہسار میں اسلام کی کرنیں حضرت سید علی ہمدانیؒ کی آمد سے بھی کافی عرصہ پہلے بکھر چکی تھیں جب ایک صحابی رسول حضرت ابی وقاصؓ رسول محترم ﷺ کی زندگی کے آخری ایام میں ہی ایک راجہ ابی سار کی دعوت پر ٹیکسلا تشریف لائے۔۔۔۔۔ اس نے آپؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ۔۔۔۔ تین سال بعد وہ تھوبہ (باڑیاں) ملکوٹ، دیول اور کھودر کے راستے پونچھ سے ہوتے ہوئے سری نگر پہنچے تھے اور وہاں سے وہ اندرون ہند کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔۔۔ خطہ کوہسار اس عہد میں ٹیکسلا کنگ ڈم کا حصہ تھا ۔۔۔۔ اسلام کا پیغام کوہسار کے سب سے بڑے کیٹھوال قبیلہ تک پہنچ چکا تھا ۔۔۔۔ حضرت علی ہمدانیؒ جب پوٹھوہار کے راستے پوٹھہ آئے تو فضا تیار تھی ۔۔۔۔ آپ کا شاندار استقبال اور کیٹھوالوں کے سرداروں کا قبول اسلام، کوہسار کی پہلی مسجد کی تعمیر اور حضرت اور ان کے مریدین کی ایک سال تک خدمت اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔۔۔۔۔ پوٹھہ صرف پوٹھہ نہ رہا لکہ یہ کوہسار کا عظیم روحانی مرکز بھی بن گیا ۔۔۔۔۔ اس کا عروج تاریخ نے حضرت ملک سراج خانؒ کے عہد میں دیکھا ۔۔۔۔۔
تہذیب جب کروٹ بدلتی ہے تو اپنے ماضی کو بھی جزوی طور پر ساتھ لے کر چلتی ہے ۔۔۔۔۔ کوہسار میں اسلام کی آمد ایک بہت بڑا مذہبی، سماجی، سیاسی اور تہذیبی انقلاب تھا ۔۔۔۔ کیٹھوال قبیلہ کی اپنی قبیلائی روایات تھیں، وہ اپنے مُردوں کو شرقاً غرباً دفن کرتے تھے، وہ دلہن کو ڈولی میں دولہا کے گھر لاتے تھے، گھر کا سربراہ اگرچہ مرد ہوتا تھا مگر فیصلے کی توثیق گھر کی عمر میں سب سے بڑی خاتون دیا کرتی تھی، عجیب بات یہ ہے کہ اس وقت کے سب سے بڑے ہند آریائی مذہب میں گائے مقدس جانور تھا مگر کیٹھوال بیل اور سانپ کو پوجتے تھے، شیو ان کا دیوتا تھا اور ان کا کوہسار میں مقدس ترین مقام ۔۔۔۔ موکش پور پربت ۔۔۔۔ بمعنی ۔۔۔۔ نجات کا پہاڑ تھ ا۔۔۔۔ دیول اور دیولیاں (چھوٹے مندر) بھی جگہ جگہ تھے، ان کی تجارت کشمیر تک تھی مگر انتظامی طور پر پہلے وہ کشمیر کے راجوں کے تابع تھے ، محمود غزنوی کی آمد کے بعد جب جہلم سے کاغان تک کا پوٹھوہار اور کوہسار ایک ہزار سالہ لیز پر گکھڑوں کے حوالے کیا گیا تو کیٹھوال ۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے باجگزار ہو گئے ۔۔۔۔ سیاسی طور پر وہ کسی بھی دیہہ میں موجودہ یونین کونسل کے دفتر کی طرح دیوان رکھتے اور وہاں ہی دیہہ کے معاملات فیصل کئے جاتے ۔۔۔۔۔ ان کی امارت ان کےجیرانوں (قبرستانوں) میں ان کی قبروں کے سائز سے عیاں تھی ۔۔۔۔۔۔ جیسے بیس گزی، نو گزی، پانچ گزی قبر ۔۔۔۔ کہو شرقی میں چوریاں کے مقام پر ایسی نو گزی قبر موجود ہے جبکہ وی سی بیروٹ کلاں میں ڈنہ مسجد کے ساتھ قبرستان میں کیٹھوالوں کی قبروں کے آثار اور ان کے برتن ساز کارخانوں کی ٹھیکریاں دیکھی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔ اسلام کی آمد سے کیٹھوالوں کا پورا سماج نوے فیصد تک تبدیل ہو گیا بلکہ کچھ چیزوں کی اسلامائیزیشن بھی کی گئی جیسے تسبیح، مندر کی جگہ مسجد، قبروں کو اسلامی طریقے سے شمالاً جنوباً بنانے کی روایت اور شیو دیوتا، بیل اور ناگ کی جگہ خدائے واحد و شاہد کی عبادت ۔۔۔۔۔ اس کیلئے ہر گھر میں ایک چوک کی تعمیر ۔۔۔۔۔ آج کا موضوع یہی چوک ہیں۔
کیٹھوال اسلام کی آمد سے قبل چوک کو بطور بیٹھک استعمال کرتے ۔۔۔۔۔ بیل کے گوبر سے اسے پوتر (پاک) کرتے، یہیں وہ قبیلائی جرگے کرتے، یہاں ہی وہ اپنا ماتھا بھی بیل اور ناگ کے سامنے ٹیکتے ۔۔۔۔ اسلام کی آمد کے بعد بھی چوک برقرار رہے مگر اب یہاں ناپاکی کا تو تصور نہیں تھا بلکہ یہ چوک ہر گھر کا لازمی حصہ اور عبادتگاہ بن گئے ۔۔۔۔۔ تیرھویں صدی میں ایک اور سیاسی انقلاب آیا ۔۔۔۔ کیٹھوالوں نے گکھڑوں کے خلاف بغاوت کر دی ۔۔۔۔ ٹیکس اور دیگر محصولات بھی دینے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔ اس صورتحال میں گکھڑ راجہ ہاتھی خان کو امید کی ایک کرن نظر آئی۔۔۔۔ وہ کشمیر گیا اور پونچھ کے سردار تولک خان سے ملا ۔۔۔۔ تولک خان کے ماضی کے بزرگ اعظم خان اور ان کی برادری جنگ مولتان میں گکھڑوں کی کمان میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھا چکے تھے اور ہاتھی خان کے پرکھے بھی اس بات کے معترف تھے ۔۔۔۔ ہاتھی خان نے تولک خان کے آگے اپنی پریشانی رکھی اور تعاون مانگا ۔۔۔۔۔ ڈیل میں یہ بات طے ہوئی کہ اگر تولک خان اور ان کی برادری موجودہ سرکل بکوٹ، کوہ مری اور لورا ناڑا کا علاقہ کیٹھوالوں اور کڑرالوں سے آزاد کرا لے تو ۔۔۔۔ تمام حقوق چھ ماہی (50 فیصد) ہوں گے۔۔۔۔ تولک خان نے کچھ مہلت مانگی اور پھر بکوٹ سے اپنی جنگی حکمت عملی کا آغاز کیا ۔۔۔۔ آپریشن سے قبل دو آدمی بکوٹ کے کڑرالوں کے ہوتروں میں بھوکی گھوڑیوں کے ساتھ بھیجے ۔۔۔۔ تاہیں نسری ہوئی تھی ۔۔۔۔ گھوڑیوں نے تباہی پھیر دی ۔۔۔۔ ایک آدمی آیا اس نے گھوڑی کو اپنے ہوتر سے نکال کر دوسرے میں ڈال دیا ۔۔۔۔ شام تک یہی تماشا ہوتا رہا اور مطلوبہ نتائج نے تولک خان کا حوصلہ بڑھایا ۔۔۔۔ دو ماہ میں بکوٹ کڑرالوں سے اور کو مری کیٹھوالوں سے خالی ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔ اور یہ سرزمین ڈھونڈ عباسیوں کے پاس آ چکی تھی۔

حضرت پیر ملک سراج خانؒ کا پوٹھہ شریف میں مزار
--------------------------------------------------------
قدیم عہد میں تین برادریاں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتی تھیں ۔۔۔۔ ڈھونڈ عباسی فیوڈل لارڈز مذہبی گھرانوں کو اپنے ساتھ رکھتے اور ان کی کفالت بھی کیا کرتے تھے ۔۔۔۔ بنیادی مذہبی فرائض کی ذمہ داری شروع دن سے ہی اعوانوں اور سیدوں کے پاس تھی ۔۔۔۔ مسجد اور مکتب کے علاوہ دیگر شادی غمی کے مذہبی امور بھی یہی اعوان اور سید ادا کرتے تھے ۔۔۔۔ فیوڈل لارڈز نسل در نسل اپنی ہی برادری میں رشتے کرتے اس طرح یہ ایک الگ حکمران طبقہ بن گیا ۔۔۔۔ اعوان اور سیدوں کی رشتہ داریاں بھی آپس میں ہوتی تھیں ۔۔۔۔ یہ بھی ایک مقدس طبقہ تھا اور ہمیشہ ساتھ ساتھ ہوتا تھا، عمرانیات کی اصطلاح میں یہ سماج کا تھنک ٹینک تھا ۔۔۔۔۔ تیسرا طبقہ ہنر مند برادریوں کا تھا اسے آپ سماج کی اقتصادیات قرار دے سکتے ہیں ۔۔۔۔ رولنگ اور دستکار کلاس پر مذہبی کلاس کا احترام اور ان کا تحفظ لازمی تھا ۔۔۔۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دیہہ کا حکمران مذہبی طبقے کے کسی پیشوا کو بلایا نہیں کرتا تھا بلکہ وہ خود چل کر میاں جی یا استاد جی کے پاس جاتا، چوک پر بیٹھتا اور من کی مراد پاتا ۔۔۔۔ یہ چوک اس وقت کے دیوانوں (یونین کونسلوں) سے بھی زیادہ مقدس تھے ۔۔۔۔ اور ہر مسئلہ یہاں ہی بیٹھ کر حل کیا جاتا تھا۔1980 کے بعد چوک ائوٹ آف ڈیٹ ہو گئے ۔۔۔۔ ان کو توڑ کر گھر کا حصہ بنا دیا گیا ۔۔۔۔۔ آج کوہسار بھر میں کہیں بھی آپ کو چوک نظر نہیں آئے گا ۔۔۔۔ راقم کے گھر کا چوک بھی 1985 میں توڑ دیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
![]() |
| حضرت پیر بکوٹیؒ |
یہ حقیقت کئی ایک حوالوں سے ثابت ہو چکی ہے کہ ۔۔۔۔۔ کوہسار کے ان اجلے کوہساروں میں جس دھرتی نے اسلام کو اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔ اسےخدائے واحد و شاہد کی سجدہ گاہ بنایا ۔۔۔۔۔ جہاں کے شجر و حجر نے قدوسیوں کی پہلی اذان سحر سنی وہ ۔۔۔۔۔ پوٹھہ شریف کی اسلام نگری ۔۔۔۔۔ تھی، حضرت سید علی ہمدانیؒ کو کوہسار سے روپوش ہوئے صدیاں بیت گئیں، اب اس پوٹھہ شریف کی اس اسلام نگری میں رب کی دھرتی پر اس کے سرمدی پپیام کی ایک بار پھر باز گشت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی، رب کائنات نے اس کا بھی بندوبست کر دیا اور عم رسول حضرت عباس کی 34 ویں نسل سے ایک مجدد پیدا کیا جسے دنیا ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خانؒ کے نام سے جانتی ہے۔
حضرت پیر ملک سراج خان بیک وقت کئی ایک پہلودار شخصیت ہیں ۔۔۔۔۔ وہ ایک ہی وقت میں فیوڈل لارڈ، ایک بڑے قبیلے کے چیف اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انیسویں صدی کے اواخر تک حضرت پیر بکوٹی کی آمد تک آسمان روحانیات پر ایک خورشید کی طرح چمکتے رہے ہیں ۔۔۔۔ ان کی مرقد پر پیر بکوٹیؒ نے ہمیشہ حاضری دی اور آخری بار حضرت پیر ملک سراج خان کی مسجد اور مزار کی تعمیر نو بھی انہوں نے ہی کروائی ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خان اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے ۔۔۔۔۔ مری میں موجودہ پوری یو سی علیوٹ اور موہڑہ عیسوال ان کی جائیداد تھی، شروع میں وہ عام نوجوانوں کی طرح شکار کے شوقین تھے، کبھی مری کے جنگلات میں چلے جاتے اور کبھی دریائے جہلم پر مچھلیاں لگاتے ۔۔۔۔ ماہ و سال گزرتے رہے ۔۔۔۔۔ ایک روز انہیں دریا پر کافی دیر ہو گئی، سامان سمیٹ کر واپسی کی راہ لینے لگے تو انہیں محسوس ہوا کہ کوئی دور کھڑا انہیں بلا رہا ہے ۔۔۔۔۔ وہ اس سمت چل پڑے ۔۔۔۔۔ ایک سبز پوش باریش شخص ان کا منتظر تھا ۔۔۔۔۔ یہ اس کے سامنے پہنچے تو وہ انہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔ وہ آگے بڑھا اور انہیں سینے سے لگا لیا اور بولا ۔۔۔۔۔ تمہاری آوارہ گردی ختم، گھر میں بیٹھو، اللہ کے مہمانوں کی خدمت کرو ۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد وہ ہانپتے کانپتےگھر پہنچے ۔۔۔۔۔ ان کے منہ سے الفاظ نکلے، مجھے کمبل اوڑھا دو، کیانکہ یہی میرے نبی ﷺ کی سنت ہے ۔۔۔۔۔ کمبل اوڑھتے ہی ان کی آنکھ لگ گئی اور وہی سبز پوش شخص ان کے سرہانے کھڑا تھا ۔۔۔۔۔ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے اور ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر کچھ پڑھ رہے تھے ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خان ایک دم چنگے بھلے ہو گئے، وضو کیا اور مصلے پر کھڑے ہو گئے۔
سب کچھ بدل چکا تھا ۔۔۔۔۔ پوٹھہ کا سردار سراج خان اب حضرت پیر ملک سراج خان بن چکا تھا ۔۔۔۔۔ مہمان تو ان کے گھر میں کشمیر آتے جاتے آ تے ہی تھے مگر اب ۔۔۔۔۔ یہاں انہوں نے لنگر کا انتظام بھی کر دیا، گھر میں موجود سارا اناج مسافروں کیلئے وقف کر دیا ۔۔۔۔۔ آپ نے بھی سبز خرقہ اوڑھ لیا اور ایک جبوترے پر بیٹھ کر اللہ کے مہمانوں کی تواضح کے انتظامات کی نگرانی کرنے لگے ۔۔۔۔۔ دن کو خدمت اور رات کو ذکر الٰہی سے پوٹھہ شریف کے درو دیوار جھومنے لگے ۔۔۔۔۔ ذکر مصطفیٰ ﷺ بلند ہونے لگا، اب ان کی شناخت یہ نہیں رہی کہ وہ کسی قبیلہ کے سردار ہیں ۔۔۔۔۔؟ نہ وہ اس وقت کے موسیاڑی (موجودہ مری) کے جاگیردار ہیں بلکہ پورے کوہسار، کشمیر اور پوٹھوہار میں ایک روحابی شخصیت کے طور پر جانے جانے لگے ۔۔۔۔۔ آپ کے آستانے میں جو کوئی آتا اس سے یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ وہ جائے گا کب ۔۔۔۔۔؟ وہ پورا سال وہاں رہتا، لنگر سے استفادہ کرتا ہاں جب وہ جانے لگتا تو آپ ضرور پوچھتے کہ کس کام سے آئے تھے، کوئی ضرورت تھی ۔۔۔۔۔؟ وہ اناج کی ضرورت بتاتا تو آپ اسے مکئی یا گندم جو موجود ہوتی اسے دیتے، مال مویشی درکار ہوتا تو بھینس، گائے یا بکری بھیڑ جو اس کی ضرورت ہوتی آپ اس کے حوالے کر دیتے، کپڑے لتے کا سوال کرتا تو اس کی پوری زنانہ مردانہ فیملی کیلئے بھی عطا کر دیتے۔
مورخین بیان کرتے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ آپ کے دور میں دھیر کوٹ کی لڑائی ہوئی تھی مگر آپ کی بہترین حکمت عملی سے ڈھونڈ عباسیوں اور ستیوں میں خون ریزی ٹل گئی تھی اور ان کے حسن خلق سے متاثر ہو کر دونوں فریقین نے اپنے اپنے مطالباست واپس لیکر امن و آشتی سے رہنے کا جو عہد و پیمان کیا وہ آج تک قائم ہے ۔۔۔۔۔ ڈھونڈ عباسی ہونے کے باوجود آپ کی انتہائی قریبی رشتہ داریاں کیٹھوال اور ستی قبیلہ سے بھی تھیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا تعلق ستی قبیلہ سے تھا جبکہ دو صاحبزادیاں کیٹھوال قبیلہ کی بہو تھیں (واللہ اعلم)۔
آپ کو جس وجہ سے اہلیان کوہسار اپنی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور سمجھتے ہیں وہ آپ کی دینی خدمات ہیں ۔۔۔۔۔ آپ نے اللہ کے مہمانوں کیلئے قیام و طعام کا بندو بست تو کیا مگر آپ کی ذاتی شخصیت اور کردار کی وجہ سے ہزاروں نہیں تو سینکڑوں غیر مسلموں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام ضرور قبول کیا، ان میں سے تو بعض عمر بھر کیلئے ان کے خادم بن گئے اور دیگر آپ کو روشنی کے ایک مینار کی حیثیت سے جاننے لگے
۔۔۔۔۔ آپ نے پوٹھہ شریف میں ایک خانقاہ اور ایک مدرسہ بھی بنوایا جہاں اپنے عباسی قبیلہ کے علاوہ دور دراز سے آنے والے تشنگان علم بھی پیاس بجھانے لگے ۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ اور مری پر مشتمل کوہسار بھر کے راجے اور راجواڑے اس خطہ کے حاکم سید پور کے گکھڑوں کو اناج، مویشیوں اور نقدی کی صورت میں خراج دینے کے پابند تھے اور اگر کوئی ڈنڈی مارتا تو وہ اپنی انٹیلی جنس کی رپورٹ پر ذمہ دار شخص کو باغی قرار دے کر اسے اہل دیہہ کے بیچ کھڑا کر کے اس کے بال منڈوا کر اس کی کھوپڑی پر اخروٹ رکھ کر اس پر بیس کلو کی پرات گھماتے، جرم کی سنگینی کی نوعیت پر بعض اوقات اس کی کھوپڑی ٹوٹ کر اخروٹ اس کے اندر چلا جاتا اور وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ۔۔۔۔۔ حضرت پیر ملک سراج خان نے گکھڑوں کے اس وحشیانہ سزا کو بھی معطل کرایا بلکہ مال مویشی، دیگر سامان کا خراج بھی معاف کروا کر صرف اناج کو رہنے دیا جو 25 کے بجائے صرف دس فیصد کر دیا گیا ۔۔۔۔۔ اس سے جب لوگوں کو ریلیف ملا تو وہ آپ کی عقیدت میں دیوانے ہو گئے ۔۔۔۔۔ کوہسار کا یہ مرد خدا بالآخر 82 سال کی عمر میں معمولی بخار کے بعد اپنے رب الارباب کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔۔۔ اس وقت علیوٹ اور موہڑہ عیسوال میں آپ کی اولاد سورج آل کہلاتی ہے ۔۔۔۔۔ ملکوٹ والے سورجال ان کی اولاد میں سے نہیں ہیں، ان کے جد امجد بھی سورج خان تھے مگر ان کا تعلق غالباً نمب بدھڑیال یا خوشی کوٹ سے تھا۔۔۔۔۔۔ خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت راسترھویں صدی کے وسط میں اس بات کے آثار پیدا ہو چلے تھے کہ ۔۔۔۔۔ سید پور کے کوہسار پر حکمران گکھڑوں کا قبائل کوہسار کے ساتھ سلوک روز بروز توہین آمیز ہو رہا تھا، معمولی معمولی بات پر اب تو اہل دیہہ کے سامنے سر بھی قلم ہونے شروع ہو گئے تھے اور اگر بکری نے دو بغروٹے دئے اور ایک سید پور پہنچنے میں تاخیر ہو گئی تو ٹکٹکی کے ساتھ باندھ کر ابلتا پانی ملزم کے وجود پر ڈالا جاتا ۔۔۔۔۔ بات یہ ہوئی تھی کہ پہلے پھروالا کہوٹہ سے سید پور الگ ہوا اور پھر سید پور سے خانپور نہ صرف الگ ہوا بلکہ سرکل بکوٹ، مری اور سرکل لورہ کےعلاقوں اور ان کے خراج اور ٹیکسوں کا بٹوارہ بھی ہو گیا ۔۔۔۔۔ وسائل میں کمی سے سید پور کے حکمران بپھر گئے اور انہوں نے اب کوہسار کو لوٹنے کا پروگرام شروع کر دیا ۔۔۔۔۔ ایسے میں کوہسار میں بہت بڑا دینی اور روحانی خلا پیدا ہوا، اہلیان کوہسار کسی مسیحا کے منتظر تھے جو انہیں اب گکھڑوں کی غلامی سے نجات دلاتا ۔۔۔۔۔ ایسے میں کشمیر میں سکھوں کی یورش ہوئی، کوہسار میں گکھڑوں کے خلاف اعلان بغاوت کے ساتھ ان کے عمال (Authorities) کو دریائے جہلم میں پھینک دیا گیا اور ساتھ ہی ہزارہ میں حضرت سید احمد اور شاہ اسماعیل نے اہلیان کوہسار کو جہاد میں شمولیت کی دعوت دی جس پر قبائل کوہسار نے لبیک کہا اور کوہسار سے مجاہدین کے دستے میدان پکھل اور رش میں پہنچنا شروع ہو گئے۔
مولانا غلام رسول مہر اپنی کتاب معرکہ بالا کوٹ میں اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ قبائل کوہسار نے خانوادہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒکی کال پر پروانہ وار جہاد بالاکوٹ میں حصہ لیا ۔۔ ان دونوں عظیم ہستیوں کی بالا کوٹ میں شہادت کے باوجود اہلیان کوہسار نے جتھوں کی صورت میں جہاد جاری رکھا ۔۔۔۔ مرکزیت، عدم رابطے اور قیادت کے فقدان کے باعث اہلیان کوہسار نے اس جہاد کی بہت بڑی قیمت چکائی ۔۔۔۔ سکھوں نے کوہسار فتح کرنے کے بعد یہاں پر مجاہدین کو ساں دب (زندہ درگور) کیا، روایت ہے کہ وی سی باسیاں کی مرکزی جامع مسجد کے پیچھے قبرستان انہی مجاہدین کا ہے جنہیں آزادی اور جہاد کی پاداش میں ساں دب کیا گیا، اسی طرح دریائے جہلم کے غربی کنارے پر ہر فرلانگ پر جو آپ کو شہر خموشاں نظر آتے ہیں یہ انہی بے نام فرزندان کوہسار کے ہیں ۔۔۔۔
سکھوں نے کوہسار پر قبضہ کے بعد سب سے پہلے دین اسلام اور کوہسار کے مذہبی گھرانوں پر نظریاتی حملہ کیا، ملاں کا اسم معرفہ ۔۔۔۔ مولیٰ ۔۔۔۔ سے مشتق ہے، سکھوں نے سب سے پہلے ان مذہبی گھرانوں کی تضحیک کی، اس عہد میں ان کے بارے میں یہ ٹوٹے چلنے شروع ہوئے ۔۔۔۔
ملاں ملولے، ٹہائی پا چھولے
ہک چھولا کچا، ملاں مہاڑا بچہ
اور ۔۔۔۔۔
ملاں نئیں بہڑئیے، توئی کہہ لگے ہیڑھہ نال
اس کے علاوہ مولوی صاحب کو ۔۔۔۔ مسیتڑھ ۔۔۔۔ نواشاں کھایا ۔۔۔۔۔ شکاط خورہ ۔۔۔۔ جیسی گالیوں سے بھی نوازہ گیا اور امام مسجد، خطیب، عالم دین اور مذہبی حوالے سے کسی بھی محراب و ممبر سے تعلق رکھنے والے شخص کو ۔۔۔۔ داھڑیالی منجھ ۔۔۔۔۔ کہا گیا، اگر بات یہاں ہی رکتی تو بھی قابل معافی تھی بلکہ ان دین محمدﷺ کے دشمنوں نے (نعوذ باللہ) آیات قرآنی کی پیروڈی بھی شروع کر دی (نقل کفر کفر نا باشد) ۔۔۔۔۔ ا(بحوالہ: اساں نیں نبی پاک ﷺہو، از محبت حسین اعوان)ان بکواسات اور محراب و ممبر کی تحقیر نے ان مذہبی خاندانوں کو نہ صٓرف بے توقیر کیا بلکہ اس وقت کی یونین کونسلیں جو دیوان کہلاتی تھیں اس کے مقامی چیئرمین بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور خوب جی بھر اہل علم و دانش کو حقارت بھرے رویے سے مایوس کیا ۔۔۔۔ اس تاریک دور میں آہستہ آہستہ مساجد اور مکتب ویران ہوتے چلے گئے اور جب 1833-38 میں خونخوار ہری سنگھ نلوہ نے کوہسار میں قتل عام کیا تو اہلیان کوہسار کو جنازہ پڑھانے والا بھی کوئی نہ تھا۔ (بحوالہ، تاریخ پونچھ از سید محمود آزاد)
یہ کوہسار کا عہد جہالت `1845 کے معاہدہ امرتسر کے ذریعے انگریزوں کی آمد اور سکھوں کے زوال تک جاری رہا ۔۔۔۔۔ ایسے میں مایوس ترین اہلیان کوہسار کیلئے حضرت پیر فقیراللہ بکوٹیؒ کی صورت میں ایک خورشید جہاں تاب چکار کے موضع پجہ شریف سے طلوع ہوا ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔ اس عہد میں بھی سکھوں سے بھی خطرناک فتنہ قادیانت نے مری شہر میں اپنے ڈیرے لگا لئے، حضرت پیر بکوٹیؒ اور ان کے رفقا نے اس فتنہ کفر کے سونامی کے سامنے بھی ایک سد سکندری کھڑی کی اور اسے مری شہر کے شمال میں جڑیں گاڑھنے سے روک دیا ۔۔۔۔۔ نماز جمعہ کو رائج کرنے کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ مسلمانان کوہسار مرزائے قادیان اور اس کے چیلوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں سے محفوظ رہ کر اپنا دین و ایمان کی بھی سرپرستی کر سکیں ۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ آپؒ نے اہلیان کوہسار کو ان کی دین سے محبت اور عشق بھی یاد دلایا ۔۔۔۔۔ اور اہلیان کوہسار کو یکتا و یکجا بھی ایسے کیا جس طرح ۔۔۔۔۔ ہادی برحق ﷺ نے عربوں کو کیا تھا ۔۔۔۔ اقبالؒ کے الفاظ میں ۔۔۔۔۔
کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
نظر میں، حضر میں، اذان سحر میں
اہلیان کوہسار جب بیدار ہوئے تو انہوں نے راقم السطور کے جد امجد ۔۔۔۔۔ مولانا میاں قاضی نیک محمد علویؒ (کھوہاس) ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ مولانا میاں قاضی نور محمد علویؒ (لمیاں لڑاں) جیسے جید علمائے دین کو قومی کوٹ اور چھپڑیاں، مظفرآباد سے نہایت مذہبی جوش و جذبہ اور احترام کے ساتھ بیروٹ لا کر ۔۔۔۔۔ جان و مال اور عزت و آبرو کی ضمانتوں اور عمرانی معاہدے (Social contract) کے تحت آباد کیا، بکوٹ کا قاضی قبیلہ، اوسیاہ اور باسیاں کے جدون، کہو شرقی اور بیروٹ کے بخاری اور کاظمی سادات، بیروٹ خورد اور باسیاں کے قریشی اسی عہد کی نشانیاں ہیں جنہوں نے ڈھونڈ عباسیوں کے دینی اور خدمت محراب و منبر کے جذبہ کے تحت دختران کعبہ کو دوبارہ آباد کیا ۔۔۔۔۔ وہاں سے پانچوں وقت اذان سنی جانے لگی ۔۔۔۔۔ ماہ صیام میں نماز تراویح بھی شروع ہوئی اور پہلے بیروٹ اور بیسویں صدی کے پہلے عشرے میں بکوٹ میں بیر بکوٹی نے کوہسار میں نماز جمعہ کی ادائیگی شروع کروا کر روحانیات کے ذمزمے بہا دئے جن کا فیض آج تک بلکہ قیامت تک جاری رہے گا ۔۔۔۔۔۔ اب عباسی برادری کے قاری سیف اللہ سیفی، قاری اسداللہ عباسی، مولانا مفتی عتیق عباسی اور دیگر وارثان علم الانبیا اس زمانہ قحط الرجال میں یہ مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔ شاعر کوہسارمولانا یعقوب علوی بیروٹویؒ کے الفاظ میں:
خدا برکت دہد در دین و ایماں مال و اولادش
طفیل سید خیرالبشر ۔۔۔۔۔۔ آقائے فارانی ﷺ


Comments
Post a Comment